کراچی میں آغا خان یونیورسٹی میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے متعلق ایک اہم اے آئی اسٹریٹیجی راؤنڈ ٹیبل منعقد ہوئی، جس میں پاکستان بھر سے 30 سے زائد ممتاز چیف انفارمیشن آفیسرز (سی آئی اوز) نے شرکت کی۔ اس اجلاس کا مقصد ملک میں اے آئی پالیسی کے حوالے سے مؤثر مکالمے کو فروغ دینا تھا جہاں اے آئی پالسیی اور حکمتِ عملی پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
تقریب میں آغا خان یونیورسٹی نے اپنی اے آئی پالیسی فریم ورک اور عملی حکمتِ عملی سے متعلق تجربات شیئر کرتے ہوئے اس شعبے میں اپنی قیادت کو اجاگر کیا۔ اجلاس کا آغاز فیکلٹی آف آرٹس اینڈ سائنسز کے ڈین ڈاکٹر اسٹیفن لیون اور ریجنل ڈائریکٹر آئی سی ٹی محمد فہد کے افتتاحی کلمات سے ہوا۔
اس موقعے پر فوجی فرٹیلائزر کمپنی (ایف ایف سی) کے گروپ سی ڈی آئی او اظہر نواز بھی موجود تھے، جنہوں نے سی آئی او ایگزیکٹو نیٹ ورک کے اراکین کو اس اہم اور مشترکہ نشست میں خوش آمدید کہا۔
بعد ازاں شعبۂ طب کی سربراہ ڈاکٹر زینب صمد نے ڈیٹا سائنس اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں آغا خان یونیورسٹی کی پیش رفت پر روشنی ڈالی، جبکہ ڈائریکٹر ڈیٹا اینڈ اینالیٹکس شمائل خالد نے اے آئی منصوبوں کو وسعت دینےکیلئے یونیورسٹی کی حکمتِ عملی پر تفصیلی بریفنگ دی۔
اس موقع پر سابق سفیر پاکستان ڈاکٹر جمیل احمد خان نے بھی ایک فکر انگیز خطاب کیا، جس میں انہوں نے 65 سال کی عمر کے بعد وقار اور مثبت انداز میں ترقی کرتے رہنے کے موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
شرکاء نے ایک منظم ورکشاپ میں بھی حصہ لیا، جہاں پاکستان میں مصنوعی ذہانت کے مؤثر استعمال اور فروغ کیلئے ترجیحات اور سفارشات مشترکہ طور پر مرتب کی گئیں۔
تقریب کے اختتام پر آغا خان یونیورسٹی ہیلتھ سسٹم (پاکستان) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر فرحت عباس نے صحت کے شعبے میں تبدیلی لانے کے لیے عملی اور قابلِ عمل اے آئی حل کی ضرورت پر زور دیا۔ جبکہ آغا خان یونیورسٹی کے صدر کے مشیر شوکت علی خان نے اجتماعی جدت کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ڈیٹا پر مبنی حل اپنانے اور “بیسٹ آف پاکستان ٹو دی ریسٹ آف پاکستان” کے تصور کو وسعت دینے کی ضرورت ہے۔
یہ راؤنڈ ٹیبل پاکستان میں ایک مشترکہ اور مؤثر اے آئی ماحولیاتی نظام کی تشکیل کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دی جارہی ہے، جس سے قومی سطح پر مثبت اثرات مرتب کرنے میں مدد ملے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








