ڈپٹی اسپیکر کنیسٹ اور اسرائیلی انتہا پسند رکن پارلیمنٹ لیمور سون ہار میلیخ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی وزارتی کمیٹی برائے قانون سازی ان کے پیش کردہ بل پر آج غور کرے گی جس میں اوسلو معاہدے ختم کرنے سے متعلق تجاویز دی گئی ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ڈپٹی اسپیکر کنیسٹ کے پیش کردہ بل کو فلسطینی ریاست ک قیام کی راہ روکنے کی نئی سازش قرار دیا جارہا ہے۔ اپنے سوشل میڈیا پیغام میں انتہا پسند اسرائیلی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ یہ بل فلسطینی ریاست کے قیام کو روکنے کیلئے پہلا اور ضروری اقدام ہے۔
خیال رہے کہ اوسلو معاہدے 1993 اور 1995 میں اسرائیلی اور فلسطینی قیادت کے مابین طے ہوئے، جن کے تحت دونوں فریقوں نے پہلی بار ایک دوسرے کو تسلیم کرنے کی ہامی بھری۔ انہی معاہدوں کے نتیجے میں فلسطینی اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا گیا تھا، جس سے فلسطینی جدوجہدِ آزادی کو کمک پہنچی۔
مذکورہ معاہدے مقبوضہ مغربی کنارے کو تین حصوں میں تقسیم کرتے ہیں جن میں سے ایریا اے فلسطینی انتظامیہ کے کنٹرول میں، ایریا بی مشترکہ اسرائیلی اور فلسطینی کنٹرول میں جبکہ ایریا سی مکمل اسرائیلی کنٹرول میں رکھ دیا گیا۔معاہدوں کا مقصد امن عمل کو فروغ دینا تھا۔
معاہدوں کا مقصد مستقبل میں اسرائیل کے ساتھ ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ بھی ہموار کرنا تھا، تاہم اسرائیل میں اس فریم ورک اور دو ریاستی حل کے مستقبل پر سیاسی اختلافات کے باعث معاہدوں کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے جس کے خلاف سازشیں پہلے بھی ہوتی رہی ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








