پاکستان نے چین کی کیپٹل مارکیٹ میں اپنی پہلی بار یوآن میں جاری ہونے والے پانڈا بانڈ متعارف کروانے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اس پیش رفت کو ملک کے لیے بیرونی مالی وسائل کو متنوع بنانے کی سمت ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔
ایک پریس کانفرنس کے دوران وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت کو آئندہ ہفتے اس بانڈ کے اجرا سے متعلق مثبت پیش رفت کی توقع ہے جس کے بعد پاکستان پہلی مرتبہ چین کی مالیاتی منڈی میں باقاعدہ طور پر داخل ہوگا۔
منصوبے کے مطابق اس ابتدائی بانڈ کی مالیت 25 کروڑ امریکی ڈالر رکھی گئی ہے جو کہ مجموعی طور پر ایک ارب ڈالر کے بڑے پروگرام کا پہلا مرحلہ ہوگا۔ اطلاعات کے مطابق اس اجرا کو ایشیائی ترقیاتی بینک اور ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک کی معاونت بھی حاصل ہوگی۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ ملکی معیشت بتدریج بہتری کی جانب گامزن ہے اور اس کی واضح جھلک برآمدات اور بیرون ملک سے آنے والی ترسیلات زر میں نظر آ رہی ہے۔
انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ خطے میں جاری کشیدگی، خصوصاً ایران سے متعلق تنازع اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں نے پاکستان کی معیشت پر اضافی دباؤ ڈالا ہے کیونکہ ملک بڑی حد تک درآمدی تیل اور گیس پر انحصار کرتا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ نے مزید انکشاف کیا کہ پاکستان متبادل مالی ذرائع پر بھی غور کر رہا ہے جن میں یورو بانڈز کا اجرا اور عالمی منڈیوں سے کمرشل قرضوں کا حصول شامل ہے۔ ان اقدامات کا مقصد زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنا اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے فراہم کیے گئے 3.5 ارب ڈالر کے مالیاتی پیکیج کی جگہ نئی مالی سہولتیں حاصل کرنا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








