اداکار عمران عباس کو جم فوٹوز شیئر کرنا مہنگا پڑ گیا! صارفین نے کیا الزام لگا دیا؟

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

پاکستانی اداکار عمران عباس ایک بار پھر سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بن گئے ہیں جب ان کی جانب سے شیئر کی گئی جم تصاویر نے نئی بحث چھیڑ دی۔ اداکار نے یہ تصاویر اپنی جسمانی فٹنس اور تبدیلی دکھانے کے لیے پوسٹ کیں مگر انٹرنیٹ صارفین کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔

عمران عباس نے تصاویر کے ساتھ واضح طور پر لکھا کہ یہ فوٹوز مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی سے تیار نہیں کی گئیں بلکہ حقیقی فٹنس کا نتیجہ ہیں۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ یہ اے آئی نہیں، اصل فٹنس ہے تاکہ ممکنہ تنقید یا شکوک و شبہات کا پہلے ہی جواب دیا جا سکے۔

ان کی وضاحت کے باوجود متعدد سوشل میڈیا صارفین قائل نہ ہو سکے اور کئی افراد نے دعویٰ کیا کہ تصاویر میں جسمانی ساخت کو ڈیجیٹل طریقے سے بہتر بنایا گیا ہے۔ حالیہ دنوں میں اے آئی سے بنی تصاویر اور ویڈیوز کے بڑھتے رجحان نے لوگوں کو سوشل میڈیا پر موجود مواد کے بارے میں زیادہ مشکوک بنا دیا ہے خاص طور پر جب بات مشہور شخصیات کی فٹنس ٹرانسفارمیشن کی ہو۔

اداکار کی پوسٹس کے کمنٹ سیکشن میں تنقیدی اور طنزیہ تبصروں کی بھرمار دیکھنے میں آئی۔ ایک صارف نے مذاق کرتے ہوئے لکھا کہ آپ خود پر بھی اے آئی استعمال کر لیں شاید زیادہ بہتر لگیں جبکہ ایک اور صارف نے کہا کہ بھائی یہ آپ کے بس کی بات نہیں۔

کچھ صارفین نے ان کا موازنہ بھارتی اداکار سلمان خان سے بھی کیا۔ ایک تبصرے میں کہا گیا کہ اصل باڈی تو صرف سلمان خان کی ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مقامی فنکاروں کا موازنہ اب بین الاقوامی معیار اور فلمی ستاروں سے کیا جانے لگا ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ عمران عباس اس قسم کی تنقید کی زد میں آئے ہوں۔ گزشتہ چند دنوں میں بھی ان کی مختلف پوسٹس پر صارفین نے اے آئی سے متعلق سوالات اٹھائے تھے جس کے باعث ان کے مداحوں اور ناقدین کے درمیان بحث کا سلسلہ جاری ہے۔

ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل دور میں حقیقت اور مصنوعی مواد کے درمیان فرق کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے یہی وجہ ہے کہ اب بغیر ایڈیٹنگ کی تصاویر بھی فوری طور پر شک کی نظر سے دیکھی جاتی ہیں۔

اگرچہ اداکار کو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا لیکن ان کے مداحوں کی بڑی تعداد اب بھی ان کی حمایت میں موجود ہے۔ مداحوں کا کہنا ہے کہ عمران عباس کی اصل پہچان ان کی اداکاری، محنت اور کامیاب ڈرامے ہیں اس لیے توجہ ان کی صلاحیتوں پر ہونی چاہیے نہ کہ صرف جم سیلفیز پر۔

Related Posts