سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر 8 مئی 2026 کو کئی صارفین جن میں صحافی اور بھارتی پروپیگنڈا اکاؤنٹس بھی شامل تھے نے ایک ویڈیو شیئر کی اور دعویٰ کیا کہ یہ امریکہ کی جانب سے ایران کے بندرگاہی شہر بندر عباس پر فضائی حملے کی فوٹیج ہے تاہم فیکٹ چیک میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ دعویٰ غلط ہے اور ویڈیو کسی اور جگہ کی ہے۔
تحقیقات کے مطابق یہ ویڈیو دراصل 25 مارچ 2026 کی ہے اور اس میں امریکہ کی جانب سے ایران کے شہر قزوین پر کیے گئے فضائی حملے کو دکھایا گیا تھا نہ کہ بندر عباس پر کسی حملے کو۔ اس غلط دعوے کو سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیلایا گیا اور مختلف اکاؤنٹس نے اسے حالیہ واقعہ قرار دیا۔
آئی ویریفائی پاکستان کی ٹیم نے اس معاملے کی جانچ کے لیے کی ورڈ سرچ اور ریورس امیج سرچ کا طریقہ استعمال کیا۔ اس تحقیق میں یہ واضح ہوا کہ وائرل ویڈیو کا موجودہ دعوے سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ پہلے سے موجود پرانی فوٹیج ہے۔
رپورٹس کے مطابق 28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل کی افواج نے ایران کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تھا جس کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا۔ بعد میں امریکی افواج نے ایرانی بندرگاہوں پر بھی کارروائیاں کیں۔ اسی دوران ایک عارضی جنگ بندی کی بات بھی ہوئی تاہم کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکی۔
7 مئی 2026 کو امریکہ کی جانب سے ایران کے قشم اور بندر عباس کے علاقوں میں حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں جو اس وقت ایک ممکنہ جنگ بندی تجویز کے تناظر میں کیے گئے تھے۔ ایران نے ان واقعات کو فائر کا تبادلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی افواج نے فوری جوابی کارروائی کی۔
First footage of a massive explosion after a US strike on Bandar Abbas, Iran.
The US hit regime assets following IRGC attacks on American warships that escalated the Strait of Hormuz crisis.
God bless America. Free Iran! pic.twitter.com/1yjd9oUJrd
— Nicholas Lissack (@NicholasLissack) May 7, 2026
دوسری جانب امریکی حکام نے دعویٰ کیا کہ ان کے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی لیکن انہیں نقصان نہیں پہنچا جبکہ حملہ آوروں کو نقصان پہنچانے کا بھی دعویٰ کیا گیا۔
تحقیقات کے مطابق وائرل ویڈیو کو سب سے پہلے 8 مئی کو ایک برطانیہ میں موجود اکاؤنٹ نے شیئر کیا جس نے اسے بندر عباس پر امریکی حملہ قرار دیا۔ اس پوسٹ کو لاکھوں بار دیکھا گیا اور پھر دیگر اکاؤنٹس نے بھی اسے پھیلایا، جن میں امریکی اور بھارتی سوشل میڈیا صارفین شامل تھے۔
بعد ازاں یہ ویڈیو مختلف یوٹیوب چینلز اور نیوز پلیٹ فارمز پر مارچ 2026 کے واقعات کے حوالے سے پہلے ہی موجود پائی گئی جن میں اسے ایران کے قزوین پر حملے سے منسوب کیا گیا تھا۔ یہ تمام شواہد اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ وائرل دعویٰ گمراہ کن ہے اور ویڈیو پرانا مواد ہے جسے غلط طور پر حالیہ واقعہ بنا کر پیش کیا گیا۔
اصل ویڈیو ذرائع:
YouTube (Republic World – 25 مارچ 2026)
YouTube (Al Estiklal – 25 مارچ 2026)
Bulgaria On Air (31 مارچ 2026 رپورٹ)
https://www.bgonair.bg/a/4-world/414388-tramp-e-gotov-za-kray-na-voynata-v-blizkiya-iztok-tsenata-na-petrola-rekordna
ان تمام ذرائع سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وائرل ویڈیو بندر عباس حملے کی نہیں بلکہ قزوین میں ہونے والی پرانی کارروائی کی ہے جسے غلط دعوے کے ساتھ دوبارہ شیئر کیا گیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








