خطے میں جاری کشیدگی کے دوران ایران نے مبینہ طور پر جنگ کے خاتمے سے متعلق امریکا کی تجویز پر اپنا جواب پاکستان کے ذریعے بھجوا دیا ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے ایرانی سرکاری میڈیا کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا ہے جس کے بعد سفارتی حلقوں میں نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔
ایرانی خبر ایجنسی آئی آر این اے کے مطابق تہران نے اپنا موقف پاکستانی ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچایا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اس پیغام میں خلیجی خطے اور آبنائے ہرمز میں جنگ کے خاتمے اور بحری سلامتی سے متعلق نکات شامل تھے تاہم اس کے مندرجات کی مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
دوسری جانب خطے میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب آبنائے ہرمز میں جنوبی کوریا کے ایک مال بردار جہاز کے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی اطلاعات سامنے آئیں۔
جنوبی کوریا کی وزارت خارجہ کے مطابق ایچ ایم ایم نامو نامی بحری جہاز کو دبئی کی بندرگاہ پہنچنے سے کچھ دیر قبل نامعلوم طیاروں نے نشانہ بنایا۔
وزارت خارجہ کے ترجمان پارک اِل کے مطابق یہ واقعہ 4 مئی کو پیش آیا جب دو نامعلوم طیاروں نے تقریباً ایک منٹ کے وقفے سے جہاز کے پچھلے حصے میں موجود بیلسٹ ٹینک کے بیرونی حصے کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں آگ اور دھواں اٹھنے لگا۔
حکام نے تاحال یہ واضح نہیں کیا کہ حملے میں کس قسم کے طیارے استعمال کیے گئے تھے، جبکہ واقعے کے بعد خلیجی سمندری راستوں کی سیکیورٹی پر خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








