تمل ناڈو کی سیاست میں ایک بڑا اور غیر معمولی موڑ اس وقت سامنے آیا جب ایک ہی دن میں نئی حکومت کی تشکیل، حلف برداری اور اسمبلی رکنیت سے استعفیٰ جیسے اہم فیصلوں نے پورے سیاسی منظرنامے کو ہلا کر رکھ دیا۔ تاملگا ویٹری کزگم کے رہنما جوزف وجے نے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد فوری طور پر ایک حلقے کی نشست چھوڑ کر سب کو حیران کر دیا۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق وجے نے حالیہ انتخابات میں پیرامبور اور تروچی ایسٹ دو حلقوں سے کامیابی حاصل کی تھی مگر قانون کے مطابق ایک وقت میں صرف ایک نشست برقرار رکھی جا سکتی ہے اسی لیے انہوں نے تروچی ایسٹ کی نشست چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
ریاستی وزرا سینگوٹائیان اور وینکٹ رامنن نے ان کا استعفیٰ اسمبلی سیکریٹری سری نواسن کو پیش کیا جس کے بعد یہ نشست باضابطہ طور پر خالی قرار دے دی گئی۔ اب الیکشن کمیشن آئندہ چھ ماہ کے اندر اس حلقے میں ضمنی انتخاب کرائے گا۔
اسی روز چنئی کے نہرو انڈور اسٹیڈیم میں ایک پروقار تقریب کے دوران وجے نے تامل ناڈو کے 13ویں وزیر اعلیٰ کے طور پر حلف اٹھایا۔ گورنر راجندر وشواناتھ آرلیکر نے ان سے عہدے کا حلف لیا۔
حلف برداری کے موقع پر ان کے ساتھ نو دیگر اراکین اسمبلی نے بھی وزارت کا حلف اٹھایا جن میں این آنند، آدھو ارجن، ارون راج، سینگوٹائیان اور سی ٹی آر نرمل کمار شامل تھے۔
اپنے پہلے خطاب میں وزیر اعلیٰ وجے نے کہا کہ وہ جلد ریاست کی مالی صورتحال پر ایک وائٹ پیپر جاری کریں گے تاکہ عوام کو اصل حقائق سے آگاہ کیا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ فوری نتائج کی توقع نہ رکھی جائے اور انہیں اصلاحات کے لیے وقت دیا جائے۔
انہوں نے خواتین کے تحفظ اور منشیات کے خاتمے کو اپنی حکومت کی اولین ترجیحات قرار دیا اور سخت اقدامات کا اعلان کیا۔
وزارت اعلیٰ سنبھالنے کے بعد پہلے ہی دن انہوں نے کئی اہم فیصلوں پر دستخط کیے جن میں گھریلو صارفین کے لیے 200 یونٹ مفت بجلی، خواتین کے تحفظ کے لیے خصوصی ٹاسک فورس اور منشیات کے خلاف کارروائی کے لیے اینٹی نارکوٹکس یونٹس کا قیام شامل ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








