ٹوکیو میں ایک ایسی جدید لیبارٹری قائم کر دی گئی ہے جہاں انسان نہیں بلکہ روبوٹس خود سائنسی تجربات انجام دیتے ہیں۔ اس انقلابی منصوبے نے تحقیق کے روایتی طریقہ کار کو مکمل طور پر تبدیل کرنے کی سمت ایک بڑا قدم اٹھایا ہے۔
انسٹی ٹیوٹ آف سائنس ٹوکیو نے اپریل کے وسط میں اپنے یوشیما کیمپس میں روبوٹکس انوویشن سینٹر کا آغاز کیا۔ اس مرکز میں اس وقت 10 جدید روبوٹس کام کر رہے ہیں جن میں انسانی شکل جیسا روبوٹ “Maholo LabDroid” بھی شامل ہے۔
یہ روبوٹس دو بازوؤں کی مدد سے نہایت باریک اور حساس سائنسی کام انجام دیتے ہیں۔ یہ مخصوص مقدار میں کیمیکل اجزاء منتقل کرتے ہیں اور درجہ حرارت کنٹرول رکھنے والے آلات کے دروازے بھی خودکار انداز میں کھولتے ہیں۔ یہاں تک کہ سیل کلچر جیسے پیچیدہ تجربات بھی مکمل طور پر خودکار نظام کے تحت چلائے جا رہے ہیں۔ یونیورسٹی کا منصوبہ ہے کہ 2040 تک ان روبوٹس کی تعداد تقریباً 2000 تک بڑھا دی جائے۔
مرکز کے سربراہ کیچی ناکایاما کے مطابق اس سہولت کا مقصد جاپان کو سائنسی تحقیق میں عالمی سطح پر سب سے آگے لے جانا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس اس ہدف کو حاصل کرنے کے بنیادی ستون ہیں۔ افتتاحی تقریب میں روبوٹس نے انسانوں کے ساتھ مل کر ربن کاٹنے کی تقریب میں بھی حصہ لیا۔ مستقبل میں اس نظام کو مکمل طور پر اے آئی سے جوڑنے کا ارادہ ہے۔
یہ اقدام تحقیقی اداروں کو درپیش بڑے مسائل جیسے لیبر کی کمی کو کم کرنے میں مدد دے گا۔ اس کے علاوہ انسانی غلطیوں کے امکانات کو بھی نمایاں حد تک کم کیا جا سکے گا۔ منصوبے کا حتمی ہدف یہ ہے کہ تحقیق کا تقریباً پورا عمل یعنی نظریہ سازی سے لے کر تجرباتی تصدیق تک، مکمل طور پر خودکار بنا دیا جائے۔
روبوٹ Maholo پہلے ہی جاپان کے شہر کوبی کے ایک اسپتال میں بھی استعمال ہورہا ہے جہاں یہ آنکھوں کی بیماریوں سے متعلق تحقیق میں حصہ لیتا ہے۔ یہاں یہ خاص طور پر اسٹیم سیلز سے متعلق سیل کلچر کے کام میں مدد فراہم کرتا ہے۔ کوبی میں کام کرنے والے محققین بھی اب ٹوکیو سینٹر کے ساتھ منسلک ہو چکے ہیں۔ یہ مرکز جاپان میں مکمل خودکار سائنسی تحقیق کی جانب ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








