شمالی علاقوں میں بارشوں سے تباہی! لینڈ سلائیڈنگ سے شاہراہیں بند؛ بجلی کی فراہم معطل

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

ملک بھر میں موسم نے اچانک خطرناک رخ اختیار کر لیا ہے۔ شمالی علاقوں میں موسلا دھار بارشوں، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلابی صورتحال نے نظامِ زندگی کو متاثر کر دیا ہے جبکہ کئی شاہراہیں بند ہونے سے مسافر مشکلات کا شکار ہیں۔

مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق خیبر پختونخوا کے مانسہرہ، مالاکنڈ اور سوات ڈویژن میں موسلا دھار بارش ریکارڈ کی گئی۔ صورتحال کے پیشِ نظر متعلقہ اداروں نے ممکنہ سیلابی ریلوں اور لینڈ سلائیڈنگ کے خدشات کے باعث الرٹ جاری کر دیا ہے۔

ادھر آزاد کشمیر میں بھی موسم نے شدت اختیار کر لی، جہاں مظفر آباد نکیال اور نیلم ویلی میں کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش نے معمولات زندگی کو متاثر کیا۔ اچانک ہونے والی بارش نے انفراسٹرکچر کے مسائل پیدا کر دئیے جبکہ مرکزی شاہراہ کو مارنٹ کے مقام پر لینڈ سلائیڈنگ کے باعث بند کرنا پڑا، جس سے آمدورفت معطل ہو گئی۔

صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی جب لوئر کوہستان کے جیجل علاقے کے قریب قراقرم ہائی وے بارش سے پیدا ہونے والی لینڈ سلائیڈنگ کے سبب ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دی گئی۔ اس بندش کے باعث نہ صرف مسافر مختلف مقامات پر پھنس گئے بلکہ تجارتی سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔

بارشوں کے اثرات بنیادی سہولیات پر بھی فوری طور پر ظاہر ہوئے۔ کندل شاہی کے علاقے میں نالہ جگرن میں طغیانی آنے کے بعد پاور ہاؤس کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا جس کے نتیجے میں اطراف کے کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی۔ انتظامیہ کی جانب سے ملبہ ہٹانے اور بجلی بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں تاہم شہریوں کو نشیبی علاقوں سے دور رہنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔

ادھر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور صوبائی دارالحکومت لاہور میں ہلکی بارش ریکارڈ کی گئی جس سے شہریوں کو وقتی طور پر گرمی سے کچھ ریلیف ملا تاہم یہ بارش ملک بھر میں جاری مجموعی موسمی صورتحال کو تبدیل کرنے کے لیے ناکافی سمجھی جا رہی ہے۔

دوسری طرف ملک کے جنوبی حصوں میں صورتحال یکسر مختلف ہے۔ جہاں شمالی علاقے بارشوں اور پانی جمع ہونے کے مسائل سے دوچار ہیں وہیں سندھ کے میدانی علاقے شدید گرمی کی لہر کے زیرِ اثر ہیں اور درجہ حرارت خطرناک حدوں کو چھو رہا ہے۔

Related Posts