کراچی اس وقت شدید گرمی اور حبس کی لپیٹ میں ہے جہاں دن چڑھتے ہی موسم کی شدت شہریوں کے لیے آزمائش بنتی جا رہی ہے جبکہ اندرونِ شہر کئی علاقوں میں درجہ حرارت خطرناک حدوں کو چھو رہا ہے اور نمی میں اضافے نے گرمی کے اثرات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق آئندہ چند روز تک صورتحال مزید سخت رہ سکتی ہے جس کے باعث شہریوں کو غیر ضروری طور پر دھوپ میں نکلنے سے احتیاط برتنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
ماہرین کے مطابق کراچی میں گرمی کی شدت یا محسوس ہونے والا درجہ حرارت دوپہر کے اوقات میں 45 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے بھی اوپر جا سکتا ہے۔ ایسی صورتحال انسانی صحت کے لیے خطرناک سمجھی جاتی ہے اور اس سے ہیٹ اسٹروک اور شدید جسمانی تھکن کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ کراچی کو ابھی سرکاری طور پر مکمل شہر کے لیے ہیٹ ویو کا شکار قرار نہیں دیا گیا کیونکہ اس کے لیے مسلسل تین دن تک درجہ حرارت 40 ڈگری یا اس سے زیادہ ہونا ضروری ہے تاہم متعلقہ اداروں نے خبردار کیا ہے کہ زیادہ گرمی اور نمی کا امتزاج انسانی صحت کے لیے خطرناک حد تک پہنچ چکا ہے۔
آج صبح جاری ہونے والا الرٹ شہر کے مشرقی علاقوں اور ان سے ملحقہ مقامات کے لیے تھا جہاں موسم ساحلی حصّوں کے مقابلے میں زیادہ سخت ہے کیونکہ ساحلی علاقوں کو سمندری ہواؤں کی وجہ سے نسبتاً ٹھنڈک میسر رہتی ہے۔
ماہرین کے مطابق کراچی کے بیشتر اندرونی علاقوں میں جمعرات تک یہی کیفیت برقرار رہے گی اور دن کے اوقات میں درجہ حرارت 37 سے 38 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان رہ سکتا ہے۔
شہریوں کو سختی سے ہدایت دی گئی ہے کہ وہ صبح 11 بجے سے شام 4 بجے تک بلا ضرورت دھوپ میں نکلنے سے گریز کریں کیونکہ انہی اوقات میں گرمی کا دباؤ سب سے زیادہ ہوتا ہے۔ پی ڈی ایم اے نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ٹھنڈی یا سایہ دار جگہوں پر رہیں، پیاس محسوس نہ ہونے کے باوجود زیادہ پانی اور مشروبات استعمال کریں اور ہلکے اور کھلے کپڑے پہنیں۔ بزرگ افراد، بچے، حاملہ خواتین اور دائمی بیماریوں میں مبتلا افراد اس موسم میں زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔
کھلے ماحول میں کام کرنے والے مزدوروں اور محنت کشوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ زیادہ مشقت والے کام صبح سویرے یا شام کے وقت انجام دیں۔ انہیں وقفے وقفے سے سایہ دار جگہوں پر آرام کرنے اور پینے کے صاف پانی تک رسائی یقینی بنانے کا بھی کہا گیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








