کراچی میں پولیو وائرس کے خطرات کا شکار 89 یونین کونسلز میں پولیو سے بچاؤ کے لیے ایک خصوصی بوسٹر مہم کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد تقریباً 18 لاکھ بچوں کو اس معذور کرنے والی بیماری سے محفوظ بنانا ہے۔
یہ مہم 12 مئی سے 24 مئی تک جاری رہے گی اور اسے صوبائی حکومت کی جانب سے وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ایک بڑے اور مضبوط اقدام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس بار روایتی مہمات کے برعکس دائرہ کار بڑھا دیا گیا ہے اور بچوں کی عمر کی حد بھی وسیع کرتے ہوئے 10 سال تک کے بچوں کو بوسٹر خوراک دی جا رہی ہے۔
اس مہم کی ایک نمایاں خصوصیت جدید جیٹ انجیکٹر ٹیکنالوجی کا استعمال ہے۔ سندھ کے ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق یہ مشینیں بغیر سوئی کے انتہائی دباؤ کے ذریعے ویکسین کو جلد کے اندر پہنچاتی ہیں جس سے روایتی طریقہ کار کی ضرورت نہیں رہتی۔
ماہرین صحت کے مطابق اس نئی ٹیکنالوجی سے کئی فوائد حاصل ہونے کی امید ہے جن میں سب سے اہم والدین اور بچوں میں انجکشن کے خوف کو کم کرنا ہے جس سے ویکسین لگوانے کی شرح بہتر ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ طریقہ تیز رفتار اور گنجان آباد علاقوں میں زیادہ مؤثر بھی سمجھا جاتا ہے جبکہ سوئی کے استعمال کے بغیر انجری یا انفیکشن کے خدشات بھی ختم ہو جاتے ہیں۔
ایمرجنسی آپریشن سینٹر سندھ نے اس مہم کے لیے بڑی تعداد میں عملہ تعینات کیا ہے۔ ایک ترجمان کے مطابق شہر کے حساس اور زیادہ خطرے والے علاقوں میں مجموعی طور پر 2,947 پولیو ٹیمیں سرگرم ہیں جو مختلف مقامات پر بچوں کو ویکسین فراہم کر رہی ہیں۔
یہ ٹیمیں موبائل یونٹس، اسپتالوں میں قائم فکسڈ سینٹرز اور ٹرانزٹ پوائنٹس پر بھی کام کر رہی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ ماحولیاتی نمونوں میں کراچی کے سیوریج سسٹم میں پولیو وائرس کی موجودگی سامنے آنے کے بعد بچوں میں قوتِ مدافعت بڑھانا ناگزیر ہو گیا تھا۔
جن بچوں کو پہلے بھی پولیو کے قطرے دیے جا چکے ہیں انہیں بھی یہ اضافی بوسٹر خوراک دی جا رہی ہے تاکہ ان کے مدافعتی نظام کو مزید مضبوط کیا جا سکے اور مکمل تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
صوبائی حکومت نے والدین سے اپیل کی ہے کہ وہ اس مہم میں ٹیموں کے ساتھ مکمل تعاون کریں۔ ماہرین صحت کے مطابق اگرچہ پاکستان پولیو کے خاتمے کی طرف پیش رفت کر رہا ہے لیکن کراچی میں آبادی کی زیادہ نقل و حرکت اس کوشش کو مزید چیلنجنگ بنا دیتی ہے اس لیے سخت حفاظتی انتظامات کے ساتھ ٹیموں کو مختلف علاقوں میں بھیجا جا رہا ہے تاکہ یہ 13 روزہ مہم کامیابی سے مکمل ہو سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








