بنگلہ دیش کے ایک ساحلی علاقے میں پیش آنے والے ایک غیر معمولی واقعے نے لوگوں کو حیرت میں مبتلا کر دیا، جہاں 54 برس سے لاپتا ایک 83 سالہ ماہی گیر اچانک اپنے آبائی گھر لوٹ آیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سید احمد نامی یہ ماہی گیر تقریباً پانچ دہائیاں قبل کتب دیا کے ساحل کے قریب ایک ماہی گیری کیلئے مختص کشتی الٹنے کے بعد لاپتا ہوگیا تھا اور اس کے بعد اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا تھا۔
طویل عرصے تک کسی قسم کی اطلاع نہ ملنے پر اہلِ خانہ بھی یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے کہ وہ سمندر میں ڈوب کر جان کی بازی ہار چکا ہے اور اسی یقین کے ساتھ زندگی گزارنے لگے۔
رپورٹس کے مطابق یہ بزرگ 5 مئی کو ہاتیا میونسپلٹی کے پنچ بیگھا گاؤں میں واقع اپنے آبائی گھر پہنچا، جہاں اس کی اچانک واپسی نے خاندان اور مقامی افراد کو جذباتی کر دیا اور پورے علاقے میں خوشگوار حیرت کی لہر دوڑ گئی۔
اس حیران کن واپسی کی خبر پھیلتے ہی مقامی لوگوں کی بڑی تعداد سید احمد کو دیکھنے کیلئے اس کے گھر کا رخ کر رہی ہے، جبکہ بہت سے افراد اسے ناقابلِ یقین واقعہ قرار دے رہے ہیں۔
خاندانی ذرائع کے مطابق کشتی حادثے کے بعد سید احمد کسی نہ کسی طرح بھارت جا پہنچا تھا، جہاں اس نے کئی دہائیاں مختلف شہروں اور مذہبی اداروں میں گزاریں اور اپنے وطن واپس نہ آ سکا۔
اطلاعات کے مطابق حالیہ دنوں میں ہاوڑہ ریلوے اسٹیشن کے قریب مبینہ طور پر لٹنے کے بعد بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورس نے اسے اپنی تحویل میں لے لیا تھا۔
بعد ازاں قانونی ضابطے مکمل کیے گئے، جس کے بعد متعلقہ حکام نے اسے دوبارہ بنگلہ دیش روانہ کر دیا تاکہ وہ اپنے وطن واپس جا سکے۔
ابتدائی طور پر اہلِ خانہ کو یقین نہیں آیا کہ واپس آنے والا شخص واقعی سید احمد ہے، تاہم خاندان کے بزرگوں اور مقامی افراد نے پرانی یادوں اور خاندانی معلومات کی بنیاد پر اس کی شناخت کی تصدیق کی۔
اس غیر معمولی واپسی کے بعد خاندان کے اندر کچھ اختلافات بھی سامنے آئے ہیں، جس پر سید احمد کے بیٹے اکرم نے ہاتیا تھانے میں جنرل ڈائری درج کرا دی ہے۔شکایت میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بعض رشتہ دار جائیداد اور مالی مفادات کی وجہ سے سید احمد کو اپنی نگرانی میں لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔
دوسری جانب پولیس بزرگ شخص کی رہائش اور دیکھ بھال سے متعلق بات چیت کی تصدیق کرچکی ہے جبکہ مقامی افراد نے اس واقعے کو نہایت جذباتی اور حیرت انگیز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سید احمد کی واپسی کسی فلمی داستان سے کم محسوس نہیں ہوتی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








