پاکستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع اٹک میں پاکستان ریلویز کے ریٹائرڈ ملازم لیاقت نے اپنی جان کی قربانی دے کر مقامی آبادی کو بڑے ممکنہ نقصان سے بچا لیا جس پر صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف سمیت اعلیٰ حکومتی شخصیات نے انہیں بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا۔
شہید لیاقت کو دیے گئے خراجِ عقیدت کی خبریں ملک بھر کے سیٹلائٹ ٹی وی چینلز، اخبارات اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نمایاں طور پر نشر اور شائع کی گئیں تاہم اسی دوران ایک انگریزی اخبار دی نیشن نے اپنی آن لائن اشاعت میں ایک ایسی غلطی کر دی جس نے خبر کو سنجیدگی سے زیادہ طنز کا موضوع بنا دیا۔
اخبار کے سب ایڈیٹر نے غفلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے شہید لیاقت کی تصویر کی جگہ قائدِ ملت نوابزادہ لیاقت علی خان کی تصویر شائع کر دی جس کے بعد خبر کی نوعیت بدل کر تاریخی کنفیوژن میں تبدیل ہو گئی۔

اس سنگین غلطی پر سوشل میڈیا صارفین نے سخت ردعمل دیتے ہوئے ادارتی معیار پر سوالات اٹھا دیے اور کہا کہ ایک بڑے انگریزی اخبار سے اس نوعیت کی بنیادی غلطی ناقابلِ فہم ہے جہاں شخصیات کی شناخت تک درست نہ رکھی جا سکی۔
صارفین نے طنزیہ انداز میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ خبر کی تصدیق سے زیادہ اب شاید تصاویر کی تاریخی اپڈیٹ ضروری ہو گئی ہے اور ایسے واقعات میڈیا اداروں کی ذمہ داری پر ایک بڑا سوالیہ نشان چھوڑ جاتے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز پنجاب اور خیبرپختونخوا کے بین الصوبائی علاقے جنڈ اور خوشحال گڑھ پل کے قریب بہادر شہری نے اپنی جان قربان کر کے مقامی آبادی کوبڑی تباہی سے بچایا۔
میڈیا ذرائع کے مطابق دہشت گرد خارجی کا مقصد بین الصوبائی علاقے میں واقع حساس چیک پوسٹ تک پہنچنا تھا تاہم شہری کی بروقت بہادری نے بڑے جانی نقصان کو روک دیا۔
شہید لیاقت نے دشمن کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر نہ صرف چیک پوسٹ بلکہ اردگرد موجود متعدد قیمتی جانوں کو بھی بچایا۔ بہادر شہری لیاقت موقع پر شہید ہوگئے جبکہ حملہ آور بھی ہلاک ہوگیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








