قومی اسمبلی میں سست رفتار انٹرنیٹ کے باعث وفاقی حکومت کی کارکردگی پر کڑی تنقید ہوئی ہے۔ متعدد اراکین نے ایوان میں سست رفتار انٹرنیٹ کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔
تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کے متعدد ارکان نے جمعرات کے روز قومی اسمبلی سمیت ملک بھر میں سست رفتار انٹرنیٹ کو موضوع بناتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ میں پیپر لیس نظام متعارف کرانے کی حالیہ کوششیں کمزور انٹرنیٹ کے باعث متاثر ہو رہی ہیں۔
ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی غلام مصطفیٰ شاہ نے اراکین سے کہا کہ ایوان کے معاملات کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی غرض سے پارلیمانی کارروائی کو خودکار بنایا جا رہا ہے اور جلد بلوں سمیت دیگر دستاویزات کی کاغذی تقسیم کو ختم کردیا جائے گا۔۔
غلام مصطفیٰ شاہ نے کہا کہ تمام ارکان کو پیپر لیس کارروائی اور کارکردگی بہتر بنانے کیلئے ٹیبلیٹس کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے جبکہ حکومت کی ترجیح یہ ہے کہ کاغذ کے استعمال کو کم سے کم کردیا جائے۔ اس موقعے پر رکن اسمبلی نعیمہ کشور نے خراب انٹرنیٹ کی شکایت کی۔
نعیمہ کشور نے ایوان میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں پیپر لیس نظام سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہی ہوں مگر خراب انٹرنیٹ کنیکشن کے باعث گزشتہ 1 گھنٹے سے دستاویزات ڈاؤن لوڈ نہیں ہوئیں۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ یہ مسئلہ فوری حل کرے تاکہ اراکین سرکاری مواد تک بروقت رسائی حاصل کریں۔
اس موقعے پر ڈپٹی اسپیکر نے متعلقہ حکام کو ایوان میں انٹرنیٹ کے مسئلے کے حل کی ہدایت جاری کی۔دریں اثناء رکن اسمبلی ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے کہا کہ ارکان اسپیکر کی جانب سے اجلاسوں کے دوران ٹیبلیٹس کے استعمال سے متعلق ہدایات پر عمل نہیں کر رہے۔ اس کی وجہ ٹیبلٹس سے عدم واقفیت ہوسکتی ہے۔
رکن پیپلز پارٹی شرمیلا فاروقی سمیت دیگر ارکان نے ملک بھر میں انٹرنیٹ کی سست رفتاری پر سوال اٹھاتے ہوئے دریافت کیا کہ آیا حالیہ اسپیکٹرم نیلامی سے صارفین کو بہتر انٹرنیٹ سہولیات میسر آ سکیں گی یا نہیں۔اس موقعے پر وفاقی وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ نے اراکین کے سوالات کے جوابات دئیے۔
شزا فاطمہ خواجہ نے کہا کہ حالیہ اسپیکٹرم نیلامی کے بعد انٹرنیٹ سروسز میں بہتری کی توقع ہے کیونکہ اس اقدام کا مقصد ملک کے ٹیلی کمیونی کیشن انفراسٹرکچر کو استحکام دینا ہے۔ ڈالر کی قدر میں استحکام کے باعث ٹیلی کام شعبے اور انفراسٹرکچر کی صورتحال بہتر ہوئی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








