پانڈا بانڈ سے نئی تاریخ رقم، پاکستان نے قرض کے حصول میں بھی ریکارڈ قائم کردیا

تازہ ترین

تازہ ترین

پانڈا بانڈز
(فوٹو: آن لائن)

پاکستان کے پانڈا بانڈز نے ایک نئی مالیاتی تاریخ رقم کر دی ہے, ملک نے کم ترین شرح سود کے ساتھ قرض کے حصول میں بھی ریکارڈ قائم کردیا جبکہ کسی بھی ملک کی عالمی ساکھ اور معاشی حیثیت جانچنے کیلئے مالیاتی منڈیوں کو معتبر ترین پیمانہ سمجھا جاتا ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق  ماضی میں جب بھی پاکستان عالمی قرض مارکیٹ میں گیا، سرمایہ کاروں نے اپنی سخت شرائط پر قرض فراہم کیا، مگر اس بار صورتحال یکسر مختلف نظر آئی اور پاکستان کے لیے عالمی اعتماد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے بہتر ہوتے ہوئے تشخص نے عالمی سرمایہ کاروں کے اندازِ فکر کو بھی بدل دیا ہے۔ دنیا کی دوسری بڑی آف شور کیپٹل مارکیٹ میں پاکستان نے پہلی مرتبہ چینی کرنسی میں پانڈا بانڈز جاری کرنے کی پیشکش کی، جسے غیر معمولی پذیرائی حاصل ہوئی۔

دنیا کی دوسری بڑی آف شور کیپٹل مارکیٹ میں پاکستان کیلئے ایسا ردعمل سامنے آیا جس کی شدت کا اندازہ خود حکومتی معاشی ٹیم کو بھی نہیں تھا۔ پاکستان نے عالمی سرمایہ کاروں کو پہلی بار یوآن میں پانڈا بانڈز فروخت کرنے کی دعوت دی، جس کے نتیجے میں بڑی پیشکش مل گئی۔

سرمایہ کاروں  نے آئی ایم ایف کی ایک قسط کے مساوی رقم پاکستان کو نسبتاً کم شرح سود پر قرض دینے کی پیشکش کر دی۔ یہ پیشکش نہ صرف مالی اعتبار سے فائدہ مند ثابت ہوئی بلکہ پاکستان کے لیے عالمی مالیاتی منڈیوں میں اعتماد کی نئی راہیں بھی کھول گئی۔

توقع سے کہیں زیادہ مثبت اور تاریخی ردعمل کے باعث پاکستان نے ابتدائی مرحلے میں تقریباً پونے 2 ارب یوآن، یعنی لگ بھگ 25 کروڑ امریکی ڈالر قرض حاصل کر لیا۔ اس قرض پر سالانہ منافعے کی شرح صرف 2.5  فیصد مقرر ہوئی، اس طرح پاکستان کے بانڈ مارکیٹ سے تاریخ کا سب سے سستا قرض اٹھانے کا نیا ریکارڈ قائم ہوگیا۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ عالمی سرمایہ کاروں نے پاکستان کو مجموعی طور پر 8.8 ارب یوآن، یعنی تقریباً 1.26 ارب ڈالر تک قرض فراہم کرنے کی پیشکشیں کیں۔ وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کے مطابق پاکستانی حکام کو خود بھی اتنی بڑی مالیت اور اتنی کم شرح منافع پر قرض ملنے کی توقع نہیں تھی،

ابتدائی طور پر یہ اندازہ لگایا گیا تھا کہ قرض کم از کم 3.5  سے 4 فیصد شرح سود پر حاصل ہوگا۔ تاہم پاکستانی پانڈا بانڈز میں سرمایہ کاروں کی غیر معمولی دلچسپی نے مستقبل کے امکانات مزید روشن کر دیے ہیں۔ 3 سالہ خودمختار ضمانت کے ساتھ جاری کیے گئے ان بانڈز پر شرح سود 2.5 فیصد پر مقرر کر دی گئی،

اس طرح حکومت نے آئندہ 2 برس میں مرحلہ وار 1 ارب ڈالر تک مزید قرض حاصل کرنے کا ہدف بھی طے کر لیا۔ موجودہ کامیاب فروخت اور سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کو دیکھتے ہوئے یہ امکان مضبوط ہو گیا ہے کہ آئندہ مراحل میں پاکستان کو اس سے بھی کم شرح سود پر زیادہ بڑی مالیت کے قرض باآسانی حاصل ہو سکیں گے۔

اہم بات یہ ہے کہ پاکستان نے جتنی رقم عالمی سرمایہ کاروں سے طلب کی، وہ اس سے تقریباً 5 گنا زیادہ قرض دینے کیلئے آمادہ دکھائی دیے، جو عالمی مالیاتی برادری کے اعتماد کا واضح اظہار ہے۔

Related Posts