اجنبی کو فون دینا مہنگا پڑ سکتا ہے، جانئے نئے سائبر فراڈ کے متعلق

تازہ ترین

تازہ ترین

علامتی فوٹو

ملک کے مختلف شہروں میں ایک نیا اور خطرناک نوعیت کا فراڈ سامنے آیا ہے جس میں شہریوں کو گمراہ کر کے ان کے فون اور ذاتی ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ فراڈ عموماً شاپنگ مالز، میٹرو اسٹیشنز، بازاروں اور دیگر عوامی مقامات پر کیا جا رہا ہے، جہاں فراڈیے بظاہر معصوم اور مدد کے طلبگار افراد کے روپ میں سامنے آتے ہیں۔

ان افراد کی جانب سے شہریوں سے کہا جاتا ہے کہ انہیں فون استعمال نہیں آتا، وہ کوئی ایپ یا سبسڈی چیک کرنا چاہتے ہیں، یا غلطی سے کوئی مسئلہ ہو گیا ہے، جس کے لیے وہ مدد طلب کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ افراد اکثر مہذب لباس میں ملبوس ہوتے ہیں اور اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تاہم بعض صورتوں میں شہریوں کو فون استعمال کرنے کے دوران غیر ضروری رسائی دینے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

سکیورٹی ماہرین نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی اجنبی کو فون استعمال کرنے کے لیے نہ دیا جائے اور نہ ہی اس کے کہنے پر کوئی ایپ، لنک یا ویڈیو کال کھولی جائے۔ اس کے علاوہ کسی بھی نامعلوم ویڈیو کال پر فوری رابطہ منقطع کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید دور میں سوشل انجینئرنگ کے ذریعے شہریوں کی سادگی اور ہمدردی کا فائدہ اٹھایا جاتا ہے، اس لیے احتیاط انتہائی ضروری ہے۔

حکام نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس نوعیت کی کسی بھی مشکوک سرگرمی کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ اداروں کو اطلاع دیں اور دوسروں کو بھی آگاہ کریں۔

مزید کہا گیا ہے کہ احتیاطی تدابیر اختیار کر کے ایسے فراڈ سے بڑی حد تک بچا جا سکتا ہے، جبکہ معمولی غفلت بھی مالی نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔

Related Posts