پاکستانی فضائی حدود کی بندش سے ایئر انڈیا تباہی کے دہانے پر! اربوں ڈالر کا نقصان

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

ایئر انڈیا کو مالی سال 2025-26 میں 2.8 ارب ڈالر کے ریکارڈ خسارے کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کی بڑی وجوہات میں ایران کی جنگ سے پیدا ہونے والی علاقائی کشیدگی اور پاکستان کی جانب سے بھارتی طیاروں کے لیے فضائی حدود کی بندش شامل ہیں۔

سنگاپور ایئرلائنز کی سالانہ رپورٹ کے مطابق جو ایئر انڈیا میں 25 فیصد حصص رکھتی ہے بھارتی ایئرلائن گروپ کو مجموعی طور پر 3.56 ارب سنگاپور ڈالر یعنی تقریباً 2.80 ارب امریکی ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔

یہ اعداد و شمار مارچ کے اختتام تک کے بارہ ماہ پر محیط ہیں۔ کمپنی نے واضح نہیں کیا کہ کس ایکسچینج ریٹ کے تحت یہ حساب لگایا گیا جبکہ رائٹرز کے مطابق پہلے ہی اس خسارے کا تخمینہ 2.12 ارب ڈالر سے زیادہ لگایا گیا تھا۔

یہ نقصان ایئر انڈیا کے لیے ایک اور بڑا دھچکا ہے جو حالیہ مہینوں میں متعدد بین الاقوامی روٹس کم کرنے پر مجبور ہوئی ہے جس سے ٹاٹا گروپ کی بحالی کی کوششوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ اس کمی کا فائدہ دیگر بین الاقوامی ایئرلائنز کو ہوا ہے جو بھارت کی تیزی سے بڑھتی ہوئی مارکیٹ میں اپنی موجودگی بڑھا رہی ہیں۔

سنگاپور ایئرلائنز کی رپورٹ میں آڈیٹر کے ایم پی جی (KPMG) نے بھی نشاندہی کی ہے کہ ایئر انڈیا میں سرمایہ کاری کے حوالے سے نقصان کے خطرات کے اشارے موجود ہیں جن کی وجہ غیر یقینی عالمی حالات، آپریشنل مشکلات اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کو قرار دیا گیا ہے۔

ایئر انڈیا جو بھارت میں اسٹاک مارکیٹ میں لسٹڈ نہیں ہے نے ابھی تک اپنے مالیاتی نتائج مقامی ریگولیٹرز کو جمع نہیں کروائے۔ گزشتہ مالی سال 2024-25 میں اس کا علیحدہ نقصان 415 ملین ڈالر جبکہ مجموعی نقصان جس میں ایئر انڈیا ایکسپریس بھی شامل ہے 1.13 ارب ڈالر رہا۔

سنگاپور ایئرلائنز کے مطابق ایئر انڈیا کو سپلائی چین کے مسائل، فضائی حدود کی پابندیاں، مشرقِ وسطیٰ کی اہم مارکیٹس تک رسائی میں رکاوٹیں اور بلند جیٹ فیول قیمتوں جیسے دباؤ کا سامنا ہے تاہم کمپنی نے واضح کیا ہے کہ وہ اس سرمایہ کاری کے ساتھ طویل مدتی وابستگی رکھتی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ایئر انڈیا کی پروازوں میں کمی کے باعث لفتھانزا گروپ اور کیتھے پیسیفک سمیت کئی غیر ملکی ایئرلائنز کو بھارت کی مارکیٹ میں توسیع کا موقع ملا ہے۔

دوسری جانب گزشتہ سال گجرات میں ہونے والے ڈریم لائنر حادثے کے بعد جس میں 260 افراد جان کی بازی ہار گئے تھے ایئر انڈیا کو سخت جانچ پڑتال کا سامنا بھی ہے۔

سنگاپور ایئرلائنز نے خبردار کیا ہے کہ ایران جنگ کے باعث بڑھنے والے ایندھن کے اخراجات اب بھی اثر انداز ہو رہے ہیں اور آنے والے سال میں کمپنی کے مالی نتائج پر مزید دباؤ ڈال سکتے ہیں جبکہ سالانہ منافع میں 57.4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے جو توقعات سے کم تھی۔

Related Posts