آٹے کا بحران شدت اختیار کر گیا، قیمتوں میں ہوشربا اضافہ، نانبائیوں نے روٹی مہنگی کرنے کی ٹھان لی

تازہ ترین

تازہ ترین

روٹیاں ہی روٹیاں
علامتی تصویر

راولپنڈی اور اس کے گردونواح میں آٹے کا شدید بحران پیدا ہو گیا ہے جس کے باعث آٹے کی قیمتوں میں اچانک بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ قیمتوں میں اضافے کے بعد نان بائی شدید مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں جبکہ عوام بھی مہنگی روٹی اور نان خریدنے پر مجبور ہوتے جا رہے ہیں۔

مارکیٹ ذرائع کے مطابق فائن آٹے کی 80 کلو گرام بوری کی قیمت 11 ہزار 300 روپے سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ لال آٹے کی 80 کلو گرام بوری 10 ہزار 300 روپے سے زیادہ میں فروخت ہو رہی ہے۔ دوسری جانب سرکاری سطح پر دستیاب 20 کلو آٹے کا تھیلا بھی 1850 روپے سے بڑھ کر 2250 روپے تک پہنچ گیا ہے جس سے غریب اور متوسط طبقہ شدید متاثر ہو رہا ہے۔

نان بائیوں کا کہنا ہے کہ آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث پرانی قیمت پر روٹی اور نان فروخت کرنا ممکن نہیں رہا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت نے فوری طور پر آٹے کی قیمتیں کم نہ کیں تو وہ نان اور روٹی کی قیمتوں میں اضافہ کرنے پر مجبور ہوں گے۔

صورتحال کے پیش نظر نان بائی ایسوسی ایشن نے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے جس میں مہنگے آٹے کے خلاف احتجاج، ممکنہ ہڑتال اور نان روٹی کی قیمتوں میں اضافے سمیت مختلف تجاویز پر غور کیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس کے بعد آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان بھی متوقع ہے۔

Related Posts