فرانس کا شینگن ویزا کیسے ملے گا؟ جانیں پاکستانیوں کیلئے ماہرین کے کار آمد مشورے

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

فرانس کا شینگن ویزا حاصل کرنا چاہتے ہیں تو صرف پاسپورٹ اور فارم کافی نہیں، مضبوط بینک اسٹیٹمنٹ بھی لازمی سمجھی جا رہی ہے۔ فرانسیسی حکام نے پاکستانی درخواست گزاروں کو خبردار کیا ہے کہ مالی ریکارڈ میں معمولی خامیاں بھی ویزا مسترد ہونے کی وجہ بن سکتی ہیں اس لیے تمام مالی اور سفری دستاویزات انتہائی احتیاط سے تیار کی جائیں۔

سفارتی ذرائع کے مطابق درخواست گزاروں کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ فرانس اور دیگر شینگن ممالک میں قیام کے دوران اپنے سفری اور روزمرہ اخراجات خود برداشت کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔

اسلام آباد میں فرانسیسی سفارت خانہ ویزا سے متعلق حتمی فیصلہ کرنے سے قبل جمع کروائی گئی تمام دستاویزات کا تفصیلی جائزہ لیتا ہے جن میں بینک ریکارڈ، ملازمت کی تفصیلات اور سفر سے متعلق معلومات شامل ہوتی ہیں۔

درخواست دہندگان کو یہ مشورہ بھی دیا گیا ہے کہ وہ اپنی متوقع روانگی سے کافی پہلے ویزا درخواست جمع کروائیں کیونکہ انٹرویو کے بعد ویزا پراسیسنگ کا عمل عموماً 15 سے 20 روز میں مکمل ہوتا ہے۔

ویزا درخواست کیلئے ضروری دستاویزات میں مکمل سفری شیڈول یا ٹریول پلان، واپسی کے ٹکٹ کا ثبوت، گزشتہ دو برس کا ملازمت کا ریکارڈ یا ٹیکس دستاویزات، پچھلے چھ ماہ کی بینک اسٹیٹمنٹ، آخری تین ماہ کی تنخواہ سلپس یا پنشن سرٹیفکیٹ، ہوٹل بکنگ یا دعوت نامہ، اور شینگن ممالک میں قابل قبول ہیلتھ انشورنس شامل ہیں۔

فرانسیسی حکام نے کم از کم بینک بیلنس کی کوئی باضابطہ شرط ظاہر نہیں کی تاہم ہوٹل میں قیام کرنے والے مسافروں کیلئے روزانہ اخراجات کا تخمینہ تقریباً 120 یورو لگایا جاتا ہے۔

وہ درخواست گزار جو میزبان کے پاس یا پہلے سے طے شدہ رہائش میں قیام کریں گے ان کیلئے یومیہ اخراجات کا اندازہ 65 سے 110 یورو کے درمیان رکھا گیا ہے۔

ان تخمینوں کے مطابق اگر کوئی مسافر 90 دن تک ہوٹل میں قیام کا ارادہ رکھتا ہے تو اسے تقریباً 10 ہزار 800 یورو، یعنی ساڑھے 35 لاکھ روپے سے زائد مالی وسائل ظاہر کرنا پڑ سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی بینک اسٹیٹمنٹس جن میں مستقل آمدن، باقاعدہ لین دین اور فعال مالی سرگرمیاں نظر آئیں، ویزا منظوری کے امکانات بڑھا دیتی ہیں جبکہ مشکوک یا غیر فعال اکاؤنٹس درخواست مسترد ہونے کا سبب بن سکتے ہیں۔

Related Posts