ثنا یوسف قتل کیس: سزائے موت سے قبل کب کیا ہوا؟ ہوشربا حقائق

تازہ ترین

تازہ ترین

ثنا یوسف
(فوٹو: آن لائن)

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت اسلام آباد نے ثنا یوسف قتل کیس میں مجرم عمر حیات کو سزائے موت، قید اور جرمانے کی سزا سنا دی ہے، تاہم کیس کے دیگر ہوشربا حقائق بھی سامنے آگئے۔

تفصیلات کے مطابق سزائے موت کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد ثنا یوسف کی والدہ آبدیدہ ہوگئیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے انصاف مل گیا، وکیلوں اور ٹیم کی شکرگزار ہوں۔ پولیس نے ہمارا بہت ساتھ دیا۔ شروع سے اب تک میڈیا نے بھی ہمارا ساتھ دیا۔

ثنا یوسف کی والدہ نے کہا کہ مجرم کو صحیح سزا ملی۔ مجرم کو سر عام پھانسی ہونی چاہئے۔ یہ فیصلہ معاشرے میں کریمنل لوگوں کیلئے سبق ہے۔ عدالت نے ملزم کو 20 سال قید اور 20لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی سنائی۔

واضح رہے کہ ٹک ٹاکر ثنا یوسف کو 2جون 225 کو ان کے گھر پر قتل کیا گیا تھا۔ 3 جون کو پولیس نے عمر حیات کو جڑانوالہ سے قتل کیس میں مجرم نامزد کرتے ہوئے گرفتار کیا۔ حکومت نے اس کیس میں راجا نوید حسن کیانی کو اسپیشل پراسیکیوٹر تعینات کیا تھا۔

مجموعی طور پر ثنا یوسف قتل کیس کی 50 سے زائد سماعتیں ہوئیں۔ چالان میں ابتدائی طور پر عدالت کو 31گواہان کی فہرست فراہم کی گئی تھی۔ پراسیکیوشن نے بعد میں 4گواہوں کو ترک کردیا جبکہ 27 گواہان نے بیانات قلمبند کروائے۔

ملزم عمر حیات جڑانوالہ کا رہائشی ہے جس پر ثنا یوسف کے قتل کیس میں 20ستمبر کو فردِ جرم عائد ہوئی۔ 25ستمبر کو استغاثہ کے پہلے گواہ نے بیان ریکارڈ کروا دیا۔ ہائیکورٹ کے حکم پر 2 ہفتے سے زائد وقت کیلئے قتل کیس کا ٹرائل رکا رہا۔ٹرائل مکمل ہونے پر عدالت نے مقدمے کا فیصلہ آج ہی محفوظ کیا تھا۔

Related Posts