ثنا یوسف قتل کیس: عدالت نے قاتل کو سزائے موت سنا دی

تازہ ترین

تازہ ترین

ثنا یوسف
(فوٹو: ڈائیلاگ پاکستان)

اسلام آباد: عدالت نے 17 سالہ ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل کے کیس میں قاتل کو 10 سال قید اور لاکھوں کے جرمانے کے ساتھ ساتھ سزائے موت بھی سنا دی ہے۔ اس سے قبل ملزم نے صحتِ جرم سے انکار کردیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل کے کیس میں سزائے موت کا فیصلہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے سنایا۔ سیشن کورٹ کے جج افضل مجوکا نے کیس کی سماعت کی۔ عدالت نے مجرم کو 10سال قید اور 2 لاکھ جرمانے کی سزا بھی سنائی۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج افضل مجوکا نے ملزم عمر حیات کو سزا سنائی۔ عدالت میں سزائے موت سنائے جانے کے موقعے پر ثنا یوسف کے اہل خانہ اور وکیل موجود تھے۔ عدالت نے چند ہی گھنٹے قبل ثنا یوسف کے قتل کے کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا جو فریقین کی موجودگی میں سنایا گیا۔

سزائے موت سنائے جانے کے وقت ملزم عمر حیات بھی کمرہ عدالت میں موجود تھا۔ عدالت نے ریمارکس دئیے کہ اگر ملزم نے 2 لاکھ روپے جرمانہ ادا نہ کیا تو اس کی سزائے قید میں مزید اضافہ کیا جائے۔ سزائے موت کا فیصلہ سامنے آنے پر مقتولہ ثنا یوسف کی والدہ آبدیدہ ہوگئیں۔

خیال رہے کہ ثنا یوسف قتل کیس اپنی نوعیت کا دل دہلا دینے والا کیس رہا ہے جس میں 50 سے زائد پیشیاں ہوئیں، ملزم پر فردِ جرم 20ستمبر 2025 کو عائد کی گئی تھی۔ 25ستمبر کو استغاثہ کے پہلے گواہ نے بیان ریکارڈ کروایا۔ استغاثہ نے ملزم کے خلاف مضبوط کیس تیار کیا تھا۔ ملزم کیس کی حالیہ سماعت کے دوران اعترافی بیان سے مکرگیا تھا۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس بے رحمی سے قتل کی گئی 17 سالہ ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے کیس میں اس سے قبل نیا موڑ سامنے آگیا، ملزم عمر حیات کا کہنا تھا کہ مجھے تو ثنا یوسف کے قتل کا معلوم ہی نہیں تھا۔

 ٹک ٹاکر ثنا یوسف قتل کیس میں ملزم عمر حیات کا 342 کا بیان گزشتہ روز ریکارڈ کیا گیا۔ قتل کیس کی سماعت ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد افضل مجوکا نے کی۔ سماعت کے دوران ملزم نے اپنے اوپر عائد الزامات مسترد کردئیے۔

عدالت کو دئیے گئے 342 بیان میں ملزم نے کہا کہ اس کا ثنا یوسف سے کوئی جھگڑا یا رابطہ نہیں تھا، نہ ہی کبھی ملاقات کی درخواست کی۔ پولیس نے اسے صرف شک کی بنیاد پر گرفتار کیا کیونکہ دونوں سوشل میڈیا پر مشہور تھے۔

Related Posts