نجی اسکولز بچوں کی 3 ماہ کی چھٹیوں کے دشمن بن گئے، اسکولوں میں 3 ماہ کی چھٹیوں کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کردی۔ عدالت نے درخواست پر ایکشن لیتے ہوئے حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز فیڈیشن کی جانب سے دائر درخواست پر نوٹس ہائیکورٹ کے جسٹس خالد اسحاق نے جاری کیا۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مریم نواز حکومت نے موسم گرما کے پیش نظر 3ماہ تک تعلیمی ادارے بند کرنے کا حکم دیا۔ پاکستان میں تعلیمی سال کم ہو کر صرف 120 دن کا رہ گیا ہے۔
آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز کا ہائیکورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں کہنا ہے کہ امریکا اور انگلینڈ سمیت بڑے ممالک میں تعلیمی سال کی طوالت 230دن ہوتی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق درخواست میں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ امریکا اور انگلینڈ جیسے ممالک میں اتنی شدید گرمی بھی نہیں پڑتی جتنی کہ پاکستان میں پڑتی ہے۔
درخواست میں بتایا گیا ہے کہ 3 ماہ تک تعلیمی ادارے بند کردئیے گئے تو طلبہ کی پڑھائی شدید متأثر ہوسکتی ہے، تعلیم کے بغیر معاشرے کو ترقی کی راہ پر گامزن نہیں کیاجاسکتا۔ عدالت 3 ماہ تک اسکولز بند کرنے کا نوٹیفیکیشن کالعدم قرارر دے کر موسم گرما کی تعطیلات 6 سے 8 ہفتوں تک محدود کرنے کا حکم دے۔
یہی نہیں بلکہ آل پاکستان پرائیویٹ اسکولز نے عدالت سے پنجاب حکومت کی جانب سے چھٹیوں کے نوٹیفکیشن پر عملدرآمد روکنے کی استدعا بھی کی جسے عدالت نے مسترد کرتے ہوئے مریم نواز حکومت سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جھٹیوں کے متعلق جواب طلب کرلیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








