پنجاب کے ضلع قصور میں اینٹوں کے بھٹے پر نسل در نسل جبری مشقت کرنے والے ایک خاندان کی آزادی کی خبر نے سوشل میڈیا پر ہزاروں افراد کو جذباتی کر دیا ہے۔ ایک غیر ملکی یوٹیوبر ایرن ہچنگز نے خاندان پر چڑھا پرانا قرض ادا کرکے انہیں تقریباً 140 برس بعد اس نظام سے نجات دلادی ہے، جس میں اس خاندان کی 4 پشتیں جکڑی ہوئی تھیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ خاندان کئی دہائیوں سے ایک ہی بھٹے پر کام کر رہا تھا اور ان پر موجود قرض ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل ہوتا رہا۔ یہی وجہ تھی کہ خاندان کے افراد عمر بھر محنت اور مزدوری کے باوجود قرض کے اس بوجھ سے آزاد نہ ہو سکے۔ ایسے نظام میں اکثر مزدور اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے قرض لینے پر مجبور ہوتے ہیں، مگر کم اجرت، اضافی اخراجات اور سود کی وجہ سے یہ قرض کم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھتا چلا جاتا ہے۔
قرض میں جکڑے خاندان کی رہائی میں مدد ایرن ہچنگز نے اپنے فلاحی منصوبے “پروجیکٹ جوبلی” کے ذریعے فراہم کی، جو جبری مشقت اور قرض کے عوض مزدوری جیسے استحصالی نظام میں پھنسے افراد اور خاندانوں کو آزادی دلانے کیلئے کام کرتا ہے اور اس منصوبے کے تحت اب تک 5 خاندانوں کو اس طرح کی زندگی نما غلامی سے نجات دلائی جا چکی ہے۔
قرض کی مکمل ادائیگی کے بعد اس خاندان کو پہلی بار بھٹے کی زندگی سے نکل کر آزادانہ زندگی گزارنے کا موقع ملا۔ اس واقعے کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد لوگوں نے بڑے پیمانے پر اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ متعدد صارفین نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جدید دور میں بھی ایسے حالات موجود ہیں جہاں لوگ اپنے بزرگوں کے قرض کی وجہ سے غلامی جیسی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
بہت سے افراد نے ایرن ہچنگز کے اقدام کو انسانیت کی اعلیٰ مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے محض ہمدردی کے اظہار تک محدود رہنے کے بجائے عملی طور پر ایک خاندان کی تقدیر بدل دی۔ بعض صارفین نے اس واقعے کو غربت، استحصال اور معاشی بے بسی کے درمیان موجود گہرے تعلق کی تلخ یاد دہانی بھی قرار دیا۔
ماہرین کے مطابق جبری مشقت اور قرض کے بدلے مزدوری کا نظام دنیا کے کئی ممالک میں قانونی طور پر ممنوع ہے، تاہم غربت اور کمزوری کے شکار طبقات اب بھی اس استحصالی چکر میں پھنس جاتے ہیں۔ ایسے خاندان اکثر مالی مشکلات کے باعث مالکان پر انحصار کرنے لگتے ہیں، جس کے بعد اس نظام سے نکلنا ان کے لیے تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








