سونا 30 مارچ کے بعد کم ترین سطح پر! مقامی صرافہ بازار میں سونا سستا ہوگا؟

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

بدھ کے روز عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی کیونکہ امریکی ٹریژری بانڈز کی بڑھتی ہوئی پیداوار اور مضبوط ڈالر نے امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ امن معاہدے سے وابستہ مثبت توقعات کو پس منظر میں دھکیل دیا۔

اسپاٹ گولڈ کی قیمت 0.3 فیصد کمی کے بعد 4,467.59 ڈالر فی اونس تک آ گئی۔گزشتہ سیشن کے دوران سونا 30 مارچ کے بعد اپنی کم ترین سطح پر بھی دیکھا گیا تھا۔

دیگر دھاتوں میں چاندی کی قیمت 0.8 فیصد کمی کے بعد 73.22 ڈالر فی اونس رہی، پلاٹینم 0.5 فیصد گر کر 1,912.67 ڈالر پر آ گیا جبکہ پیلیڈیم 0.2 فیصد اضافے کے ساتھ 1,356.32 ڈالر فی اونس تک پہنچ گیا۔

جون میں ڈیلیوری کے لیے امریکی گولڈ فیوچرز میں بھی 0.9 فیصد کمی ہوئی جس کے بعد یہ 4,471.10 ڈالر پر ٹریڈ ہونے لگا۔

کے سی ایم ٹریڈ کے چیف مارکیٹ تجزیہ کار ٹم واٹرر کے مطابق بڑھتی ہوئی بانڈ ییلڈز اور شرح سود سے متعلق سخت موقف کے باعث ڈالر مضبوط ہو رہا ہے جس کی وجہ سے سونے کی قیمتوں پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

امریکی ڈالر تقریباً چھ ہفتوں کی بلند ترین سطح کے قریب برقرار رہا جس کے باعث دوسری کرنسیوں میں سرمایہ رکھنے والوں کیلئے سونا مزید مہنگا ہو گیا۔

دوسری جانب امریکی 10 سالہ ٹریژری بانڈ کی پیداوار ایک سال سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح کے قریب مستحکم رہی جس سے ایسے اثاثوں میں سرمایہ کاری کا رجحان بڑھا جو منافع دیتے ہیں جبکہ سونا کوئی منافع فراہم نہیں کرتا۔

ایران کے حوالے سے امریکی موقف اب بھی غیر واضح دکھائی دے رہا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا کہ واشنگٹن کو تہران کے خلاف کارروائی کی ضرورت دوبارہ پیش آ سکتی ہے جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان بات چیت میں پیش رفت ہو رہی ہے اور کوئی بھی فریق دوبارہ جنگ نہیں چاہتا۔

فلاڈیلفیا فیڈرل ریزرو بینک کی صدر اینا پالسن کا کہنا تھا کہ موجودہ شرح سود فی الحال معیشت کے لیے موزوں ہے اور یہ مہنگائی کو قابو میں رکھنے میں مدد دے رہی ہے خاص طور پر ایسے وقت میں جب قیمتوں کا دباؤ اب بھی زیادہ ہے۔

تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ سرمایہ کاروں کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافے کے امکانات پر غور کرنا ایک مثبت اور صحت مند پیش رفت ہے۔

Related Posts