پاکستان میں براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں جاری مالی سال کے پہلے 10 ماہ کے دوران 31 فیصد نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ملک اب بھی غیر ملکی سرمایہ کاروں کو متوجہ کرنے میں مشکلات کا شکار ہے۔ صورتحال اپریل میں مزید خراب ہوئی جب مجموعی سرمایہ کاری صرف 54 ملین ڈالر رہی جبکہ گزشتہ سال اسی ماہ یہ رقم 179 ملین ڈالر تک پہنچ گئی تھی۔
اپریل کے دوران صرف چین کی سرمایہ کاری ہی مجموعی نیٹ ان فلو سے زیادہ رہی جو 61 ملین ڈالر ریکارڈ کی گئی۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ کچھ ممالک نے سرمایہ واپس نکال لیا جبکہ کچھ نے اسی عرصے میں نئی سرمایہ کاری کی۔
جولائی سے اپریل تک مجموعی طور پر پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری 1.409 ارب ڈالر رہی جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 2.035 ارب ڈالر کے مقابلے میں واضح طور پر کم ہے۔
ملکی سطح پر چین بدستور سب سے بڑا سرمایہ کار رہا، جس نے 10 ماہ میں 740 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی تاہم یہ گزشتہ سال کے اسی عرصے میں 1.04 ارب ڈالر کے مقابلے میں کم ہے۔ ہانگ کانگ نے 281 ملین ڈالر، سوئٹزرلینڈ نے 170 ملین ڈالر اور متحدہ عرب امارات نے 169 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔
اس دوران ناروے نے سب سے زیادہ سرمایہ نکالا، جس کی مالیت 365 ملین ڈالر رہی۔ دوسری جانب پاکستان کے توانائی کے شعبے نے سب سے زیادہ غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کی جو 785.6 ملین ڈالر تک پہنچ گئی اگرچہ گزشتہ چند برسوں میں اس شعبے پر مسلسل تنقید بھی جاری رہی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








