عمران خان اگلے ہفتے رہا ہو جائیں گے؟ جانیے نون لیگی رہنما رانا ثناء اللہ کے بیان کی حقیقت

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر 13 مئی 2026 سے متعدد صارفین کی جانب سے ایک مبینہ اے آر وائی نیوز کا گرافک وائرل کیا جا رہا ہے جس میں دعویٰ کیا گیا کہ وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے سیاسی امور راناثنااللہ نے سابق وزیرِاعظم عمران خان کی اس ہفتے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہائی سے متعلق بیان دیا ہے تاہم تحقیق سے یہ واضح ہوا ہے کہ یہ تصویر جعلی ہے۔

وائرل ہونے والے اس مواد میں اے آر وائی نیوز کے بریکنگ نیوز گرافک کو استعمال کرتے ہوئے یہ تاثر دیا گیا کہ رانا ثناءاللہ نے عمران خان کی جلد رہائی کی تصدیق کی ہے لیکن فیکٹ چیک کے مطابق نہ تو یہ خبر نشر کی گئی اور نہ ہی ایسا کوئی بیان سامنے آیا ہے۔یہ دعویٰ مکمل طور پر غلط اور گمراہ کن پایا گیا ہے۔

یہ بھی دیکھا گیا کہ یہ تصویر مختلف اکاؤنٹس کی جانب سے شیئر کی گئی جن میں کچھ ایسے صارفین شامل تھے جنہیں ماضی کی پوسٹس کے تناظر میں پی ٹی آئی کے حامی سمجھا جاتا ہے۔ ان پوسٹس کو بڑی تعداد میں ویوز بھی ملے تاہم ان کی کوئی مستند حیثیت ثابت نہیں ہو سکی۔

عمران خان اس وقت 2023 سے جیل میں قید ہیں اور انہیں راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ کیس میں 14 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ ان کی جماعت اور اہل خانہ کی جانب سے ان کی تنہائی میں قید اور صحت سے متعلق تحفظات کا بھی اظہار کیا جاتا رہا ہے جبکہ ان کے بیٹے بھی ان کی رہائی کے لیے مہم چلا رہے ہیں۔

فیکٹ چیک رپورٹ کے مطابق اس معاملے کی چھان بین کے لیے تکنیکی اور صحافتی طریقے اپنائے گئے۔ اے آر وائی نیوز سے تصدیق کی گئی تو ادارے نے واضح کیا کہ ایسی کوئی خبر نشر نہیں کی گئی، اور نہ ہی ان کے گرافک میں استعمال ہونے والی لائنز اور ٹکرنگ اس تصویر سے مطابقت رکھتی ہیں۔

مزید تجزیے میں یہ بھی سامنے آیا کہ تصویر کے مختلف حصوں میں تکنیکی خرابیاں موجود تھیں جن میں رانا ثناء اللہ کے چہرے خاص طور پر کانوں کے حصے میں غیر فطری دھندلاہٹ شامل ہے۔ اسی طرح بریکنگ نیوز کے پیلے رنگ کا شیڈ بھی اصل اے آر وائی گرافکس سے مختلف پایا گیا۔

فیکٹ چیکنگ ٹولز کے ذریعے جانچ میں یہ نتیجہ سامنے آیا کہ تصویر مکمل طور پر کمپیوٹر سے تیار یا ایڈٹ شدہ ہے۔ اے آر وائی نیوز کے عہدیدار نے بھی اس خبر کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے پلیٹ فارم پر ایسی کوئی بریکنگ نہیں چلائی گئی۔

تمام دستیاب شواہد اور تصدیق کے بعد یہ واضح کیا گیا ہے کہ رانا ثناء اللہ کے بیان سے متعلق یہ وائرل دعویٰ جعلی ہے اور اے آر وائی نیوز کی جانب سے ایسی کوئی خبر نشر نہیں کی گئی۔

Related Posts