پاکستان کے معروف کوہ پیما سلمان عتیق نے دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سر کرکے ایک شاندار کارنامہ انجام دیا ہے جس پر انہیں ملک بھر میں سراہا جا رہا ہے۔ ان کی یہ کامیابی ہمت، برداشت اور بلند حوصلے کی ایک نئی مثال کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
سلمان عتیق جو ایک ماہر کوہ پیما ہونے کے ساتھ ساتھ اسکوبا ڈائیونگ اور پیراگلائیڈنگ کے شعبوں میں بھی اپنی صلاحیتیں منوا چکے ہیں نے جمعرات کے روز 8,848.86 میٹر بلند ماؤنٹ ایورسٹ کو کامیابی سے سر کیا۔ یہ پہاڑ دنیا کی بلند ترین چوٹی ہونے کے ساتھ ساتھ کوہ پیماؤں کے لیے سب سے بڑا چیلنج بھی سمجھا جاتا ہے۔
یہ غیر معمولی کامیابی اس وقت سامنے آئی جب گزشتہ سال انہوں نے دنیا کی آٹھویں بلند ترین چوٹی ماؤنٹ مناسلو (8,163 میٹر) کو بھی سر کیا تھا۔ اس تسلسل نے ایک بار پھر ثابت کیا ہے کہ ان کی لگن اور خطرناک اور بلند مقامات پر کوہ پیمائی کا شوق کسی حد تک محدود نہیں۔
ماؤنٹ ایورسٹ نیپال اور چین کے خودمختار خطے تبت کی سرحد پر واقع ہے اور اسے دونوں اطراف سے سر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جہاں ہر راستہ اپنی الگ مشکلات اور خطرات رکھتا ہے۔
الپائن کلب آف پاکستان کے صدر اور دیگر اراکین نے سلمان عتیق کو اس عظیم کامیابی پر مبارکباد پیش کی ہے۔ کلب کے مطابق یہ پاکستان کے کوہ پیمائی کے شعبے کے لیے ایک قابل فخر سنگ میل ہے۔
الپائن کلب کے نائب صدر کرار حیدری نے اپنے بیان میں کہا کہ سلمان عتیق کی لگن، جرات اور کھیلوں سے وابستگی انہیں انتہائی مشکل حالات میں بھی آگے بڑھنے کی طاقت دیتی ہے۔ ان کے مطابق یہ کامیابی نہ صرف انفرادی سطح پر اہم ہے بلکہ پاکستان کے نوجوان کوہ پیماؤں کے لیے بھی ایک بڑا حوصلہ ہے۔
دوسری جانب رپورٹس کے مطابق بدھ کے روز صرف ایک دن میں 274 کوہ پیماؤں نے نیپال کی جانب سے ماؤنٹ ایورسٹ کو سر کیا جو ایک نیا ریکارڈ قرار دیا جا رہا ہے۔ نیپال کے ایسوسی ایشن آف ایکسپیڈیشن آپریٹرز کے سیکریٹری جنرل رشی بھنڈاری نے بتایا کہ اس سے قبل یہ ریکارڈ 2019 میں 223 کامیاب چڑھائیوں کا تھا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








