رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے بلوچستان میں تعلیمی اصلاحات سے انقلاب برپا ہوگیا۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ اسکول آنے والے بچوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جبکہ گزشتہ 2 سال میں 7 لاکھ سے زائد بچے اسکولوں میں داخل ہوئے ہیں۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا ہے کہ حکومتی اصلاحاتی اقدامات کے نتیجے میں اسکول چھوڑنے والے بچوں کی شرح میں 5 فیصد کمی دیکھی گئی ہے، جبکہ طلبہ کے تعلیمی اداروں میں تسلسل کے ساتھ برقرار رہنے کی شرح میں 11 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ 2 سال میں صوبے بھر میں 7 لاکھ 17 ہزار سے زائد بچوں کا سرکاری اسکولوں میں داخلہ ہوگیا۔
بلوچستان میں تعلیم کے شعبے میں اصلاحات کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران 7 لاکھ 17 ہزار سے زائد بچوں کا سرکاری اسکولوں میں داخلہ یقینی بنایا گیا، جبکہ ڈراپ آؤٹ ریٹ میں 5 فیصد کمی اور طلبہ کے اسکولوں میں برقرار رہنے کی شرح میں 11 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا حکومتِ…
— Sarfraz Bugti (@PakSarfrazbugti) May 23, 2026
میر سرفراز بگٹی نے بتایا کہ حکومت نے غیر فعال اور بند تعلیمی اداروں کی بحالی کو خصوصی ترجیح دی ہے، جس کے تحت پورے صوبے میں 3 ہزار 778 بند اسکول دوبارہ فعال کیے گئے ہیں۔ ان اسکولوں کی بحالی کے باعث ہزاروں بچے دوبارہ تعلیم سے منسلک ہوئے ہیں جبکہ دور افتادہ علاقوں میں تعلیمی سرگرمیوں کو نئی رفتار ملی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان کی ترقی، نوجوان نسل کے بہتر مستقبل اور پسماندگی کے خاتمے کا انحصار معیاری تعلیم پر ہے۔ اسی مقصد کے تحت حکومت تعلیم کے شعبے میں عملی اور ٹھوس اقدامات کر رہی ہے تاکہ تمام بچوں کو یکساں اور بہتر تعلیمی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے واضح کیا کہ تعلیمی شعبے میں کسی قسم کی غفلت، بدعنوانی یا غیر ذمہ داری کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق اساتذہ کی حاضری، اسکولوں کی فعالیت اور تعلیمی معیار کی مؤثر نگرانی کے لیے ایک مربوط اور سخت نظام نافذ کیا گیا ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبائی حکومت تعلیمی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے اصلاحات کا سلسلہ جاری رکھے گی، تاکہ بلوچستان کے نوجوان ملک کی ترقی میں فعال اور مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








