وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے ایک ایسے پاکستانی نوجوان کو حراست میں لے لیا ہے جو آسٹریلیا میں ہم جنس شادی کے ذریعے سیاسی پناہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ملزم کے موبائل ڈیٹا سے اہم انکشافات بھی سامنے آگئے۔
ڈپٹی ڈائریکٹر امیگریشن شہزاد اکبر کے مطابق گرفتار ہونے والے شخص کا تعلق گوجرانوالہ سے ہے۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ وہ آسٹریلیا میں ہم جنس شادی کے بعد وہاں سیاسی پناہ لینے کا ارادہ رکھتا تھا، تاہم سری لنکا روانگی کے دوران ایف آئی اے امیگریشن حکام نے اسے گرفتار کر لیا۔
امیگریشن ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم کے موبائل فون کی جانچ پڑتال کے دوران آسٹریلیا میں سیاسی پناہ حاصل کرنے اور ہم جنس پرستی سے متعلق مختلف مواد سامنے آیا، جس کے بعد اس کے خلاف مزید تحقیقات شروع کی گئیں۔
حکام کے مطابق ملزم اس سے قبل بھی 2019 میں ایران کے راستے غیر قانونی طور پر “ڈنکی” لگا کر یورپ جانے کی کوشش کر چکا تھا، لیکن یونان کی پولیس نے اسے گرفتار کرنے کے بعد ترکی واپس بھیج دیا تھا۔ اس کے علاوہ وہ 2022 میں مالدیپ سے بھی بے دخل کیا جا چکا ہے۔
دورانِ تفتیش ملزم نے انکشاف کیا کہ اس نے سیاسی پناہ کے حصول کے مقصد سے آسٹریلوی شہری اسٹیون کرسٹوفر کو 40 لاکھ روپے ادا کیے تھے۔ اس نے بتایا کہ مذکورہ آسٹریلوی شہری اپریل 2026 میں پاکستان آیا تھا، جہاں دونوں کے درمیان ہم جنس شادی سے متعلق ایک معاہدہ بھی طے پایا۔ملزم کو مزید قانونی کاروائی کیلئے اے ایچ ٹی سی کے حوالے کردیا گیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








