وائٹ ہاؤس کے قریب اچانک خوفناک فائرنگ نے واشنگٹن ڈی سی میں خوف و ہراس پھیلا دیا جہاں سیکرٹ سروس اہلکاروں اور ایک مسلح شخص کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں حملہ آور مارا گیا۔
واقعے کے وقت صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں موجود تھے جبکہ صحافیوں اور عملے کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق حملہ آور پہلے بھی سیکورٹی اداروں کی نظروں میں آ چکا تھا اور اس کا ذہنی مسائل کا ریکارڈ بھی موجود تھا۔
وائٹ ہاؤس کے قریب فائرنگ کرنے والے مشتبہ شخص کو ہفتے کی شام سیکرٹ سروس اہلکاروں کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک کر دیا گیا۔ حکام نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ صورتحال پر فوری قابو پا لیا گیا تھا۔

بی بی سی کے امریکی میڈیا پارٹنر سی بی ایس کے مطابق مشتبہ شخص کی شناخت 21 سالہ نصیر بیسٹ کے نام سے ہوئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ وہ سیکرٹ سروس کی نظر میں پہلے سے موجود تھا اور ذہنی صحت سے متعلق مسائل کا ریکارڈ بھی رکھتا تھا۔

امریکی سیکرٹ سروس کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے دوران ایک راہگیر بھی زخمی ہوا تاہم اس کی حالت کے بارے میں مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ ادارے کے مطابق اس واقعے میں کوئی اہلکار زخمی نہیں ہوا۔
حکام کے مطابق فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں جبکہ وائٹ ہاؤس کے اطراف کئی سڑکیں رات بھر بند رہنے کا امکان ہے تاکہ سیکیورٹی اقدامات برقرار رکھے جا سکیں۔

سیکرٹ سروس نے بتایا کہ واقعہ وائٹ ہاؤس کے قریب 17ویں اسٹریٹ اور پنسلوانیا ایونیو کے علاقے میں آئزن ہاور ایگزیکٹو آفس بلڈنگ کے نزدیک پیش آیا۔ سی بی ایس کے مطابق 10 سے 20 گولیوں کے چلنے کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
ادارے کے مطابق ہفتے کی شام تقریباً 6 بجے سے کچھ پہلے ایک شخص نے اپنے بیگ سے اسلحہ نکالا اور فائرنگ شروع کر دی جس پر سیکرٹ سروس اہلکاروں نے جوابی کارروائی کی۔ مشتبہ شخص کو گولیاں لگیں اور بعد میں اسپتال میں اس کی موت کی تصدیق کر دی گئی۔

بعد ازاں سی بی ایس نے حملہ آور کی شناخت نصیر بیسٹ کے طور پر کی۔ قانون نافذ کرنے والے ذرائع نے بتایا کہ وہ سیکرٹ سروس اور میٹروپولیٹن پولیس دونوں کو معلوم تھا اور اس نے ریوالور استعمال کیا تھا۔

تحقیقات سے واقف ایک ذریعے نے سی بی ایس کو بتایا کہ جولائی 2025 میں بھی نصیر بیسٹ نے وائٹ ہاؤس میں داخل ہونے کی کوشش کی تھی جس کے بعد سیکرٹ سروس نے اسے قریب سے گرفتار کیا تھا۔ بعد میں اسے ایک نفسیاتی طبی مرکز میں رکھا گیا۔ ذرائع کے مطابق وہ گزشتہ اٹھارہ ماہ سے واشنگٹن ڈی سی میں رہائش پذیر تھا۔
فائرنگ کے وقت صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں موجود تھے تاہم ہفتے کی رات پیش آنے والے واقعے پر ان کی جانب سے فوری طور پر کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔ وائٹ ہاؤس کے ایک عہدیدار نے سی بی ایس کو بتایا کہ صدر کو واقعے سے متعلق بریفنگ دے دی گئی ہے۔
یہ واقعہ ایک ماہ بعد پیش آیا ہے جب وائٹ ہاؤس کرسپانڈنٹس ڈنر کے دوران بھی ایک مسلح شخص نے فائرنگ کی تھی جس کے بعد سیکیورٹی سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے تھے۔
گولیاں چلنے کی آواز سننے کے بعد وائٹ ہاؤس میں موجود صحافیوں کو تیزی سے بریفنگ روم منتقل کیا گیا۔ بعض رپورٹرز اس وقت ویڈیو ریکارڈنگ کر رہے تھے اور کیمرے پر گفتگو کے دوران دور سے فائرنگ کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔
اے بی سی کی سینئر وائٹ ہاؤس نمائندہ سلینا وانگ کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ زمین پر جھک کر پناہ لے رہی ہیں جبکہ شمالی لان کی جانب سے مسلسل گولیوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔
I was in the middle of taping on my iPhone for a social video from the White House North Lawn when we heard the shots. It sounded like dozens of gunshots. We were told to sprint to the press briefing room where we are holding now. pic.twitter.com/iqdQwh4soq
— Selina Wang (@selinawangtv) May 23, 2026
سلینا وانگ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ انہیں ہدایت دی گئی کہ فوراً دوڑ کر پریس بریفنگ روم پہنچیں جہاں بعد میں سب کو روک لیا گیا۔
سی بی ایس نیوز کے رپورٹر ایرن ناوارو نے بی بی سی نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ وہ شمالی لان میں موجود تھے جب انہوں نے مختلف سمتوں سے گولیوں کی آوازیں سنیں جو بظاہر وائٹ ہاؤس کے احاطے سے باہر سے آ رہی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ جیسے ہی فائرنگ کی آواز آئی تو سب لوگ جھک گئے جبکہ دیگر صحافی دوڑنا شروع ہو گئے۔ اسی دوران سیکرٹ سروس اہلکار مسلسل آوازیں لگا رہے تھے کہ فوراً اندر جائیں۔
ناوارو کے مطابق صحافیوں کو تقریباً 30 منٹ تک پریس بریفنگ روم میں محدود رکھا گیا۔ بعد میں انہوں نے باہر سیکرٹ سروس اہلکاروں اور وائٹ ہاؤس کے قریب ایمبولینسوں کی موجودگی دیکھی۔
انہوں نے کہا کہ یہ واضح نہیں کہ فائرنگ کے وقت صدر ٹرمپ وائٹ ہاؤس کے کس حصے میں موجود تھے یا انہوں نے گولیوں کی آواز سنی بھی یا نہیں کیونکہ واقعہ کچھ فاصلے پر پیش آیا تھا۔
ان کے مطابق یہ علاقہ عام طور پر کافی مصروف رہتا ہے جہاں کیفے اور ریستوران موجود ہیں تاہم ہفتہ ہونے اور دفتری اوقات ختم ہونے کے باعث معمول سے کم رش تھا۔ ایرن ناوارو نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ کی سیکیورٹی کے حوالے سے یہ صورتحال مجموعی طور پر ایک کشیدہ لمحہ تھا۔
سی بی ایس نیوز کی وائٹ ہاؤس ایسوسی ایٹ پروڈیوسر ایما نکلسن نے سوشل میڈیا پوسٹ میں بتایا کہ ان کی نیوز ٹیم ریکارڈنگ کی تیاری کر رہی تھی جب اچانک متعدد گولیوں جیسی آوازیں سنائی دیں جس پر سب لوگ فوراً زمین پر لیٹ گئے۔
انہوں نے کہا کہ کچھ ہی دیر بعد سیکیورٹی اہلکاروں نے انہیں فوری طور پر وائٹ ہاؤس کے اندر منتقل کر دیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








