بنگلہ دیش میں ایسی کیا بیماری پھیلی کہ 500 بچے جان سے گئے؟ پریشان کن تفصیلات سامنے

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ آن لائن)

بنگلہ دیش میں خسرہ کی خطرناک وبا نے 500 سے زائد بچوں کی جان لے لی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یہ کئی دہائیوں میں اس قابلِ بچاؤ بیماری کا سب سے ہلاکت خیز پھیلاؤ قرار دیا جا رہا ہے۔

دارالحکومت ڈھاکا کے اسپتالوں میں مریضوں کا بے پناہ دباؤ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ بڑھتے ہوئے کیسز کے باعث کئی اسپتالوں نے خسرہ کے مریضوں کے لیے خصوصی وارڈ قائم کر دئیے ہیں تاہم انتہائی نگہداشت کے بستروں کی کمی صورتحال کو مزید سنگین بنا رہی ہے۔

اموات کا سلسلہ اب بھی جاری ہے اور صرف گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 13 بچوں کی جان چلی گئی۔ محکمہ صحت کے مطابق 15 مارچ سے اب تک ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد 512 تک پہنچ چکی ہے۔

وبا پر قابو پانے کے لیے جنوبی ایشیائی ملک میں بڑے پیمانے پر ویکسینیشن مہم شروع کی گئی ہے۔ یونیسیف کی بنگلہ دیش میں سربراہ رانا فلاورز نے اس ہفتے بتایا کہ اس مہم کے ذریعے اب تک ایک کروڑ 80 لاکھ بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگائے جا چکے ہیں۔

تاہم محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ ویکسینیشن کے مکمل نتائج سامنے آنے میں ابھی کئی ماہ لگ سکتے ہیں کیونکہ بیماری پہلے ہی وسیع پیمانے پر پھیل چکی ہے۔

یونیسیف نے بدھ کے روز کہا تھا کہ 2024 کی سیاسی ہنگامہ آرائی اور حکومت کی تبدیلی کے دوران اور اس کے بعد معمول کی حفاظتی ٹیکہ کاری کا نظام متاثر ہوا جس کے باعث بڑی تعداد میں بچے غیر محفوظ رہ گئے۔

خسرہ ایک نہایت متعدی بیماری ہے جو کھانسی اور چھینک کے ذریعے تیزی سے پھیلتی ہے جبکہ اس کا کوئی مخصوص علاج موجود نہیں۔ ایک بار بیماری لاحق ہونے کے بعد مریض کو صرف علامات کے مطابق طبی سہولت دی جا سکتی ہے۔

اس بیماری کے باعث دماغ میں سوجن اور سانس کی شدید پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ اگرچہ خسرہ ہر عمر کے افراد کو متاثر کر سکتا ہے لیکن اس کا سب سے زیادہ شکار بچے بنتے ہیں۔

طبی عملے کے مطابق زیادہ متاثر ہونے والے بچوں کی بڑی تعداد کم آمدنی والے خاندانوں سے تعلق رکھتی ہے اور وہ غذائی قلت کا شکار بھی ہوتے ہیں۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کئی بچوں نے معمول کے حفاظتی ٹیکے نہیں لگوائے تھے جبکہ بعض بچوں کی قوتِ مدافعت ناقص غذا کے باعث پہلے ہی کمزور ہو چکی تھی یا دونوں مسائل بیک وقت موجود تھے۔

محکمہ صحت کی جانب سے جاری ہلاکتوں کے اعداد و شمار ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ وبا اب قابو میں آ رہی ہے اور کئی متاثرہ علاقوں میں کیسز میں کمی دیکھی گئی ہے۔

بنگلہ دیش میں اس موجودہ وبا کے دوران سامنے آنے والے زیادہ تر مریضوں کی عمریں چھ ماہ سے پانچ سال کے درمیان بتائی جا رہی ہیں۔ ڈاکٹروں کے مطابق اسپتال پہنچنے والے بہت سے بچے پہلے ہی انتہائی تشویشناک حالت میں ہوتے ہیں، جس کے باعث ان کا علاج مزید مشکل ہو جاتا ہے۔

ڈھاکا کے شہید سہروردی میڈیکل کالج اور اسپتال کے ماہرِ اطفال عین الاسلام خان نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا کہ اگر بچہ صحت مند ہو اور بیماری کے ساتھ دوسری پیچیدگیاں نہ ہوں تو خسرہ میں معمولی ادویات سے بھی صحت یابی ممکن ہوتی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہاں آنے والے زیادہ تر بچے سانس لینے میں شدید دشواری اور آنکھوں، گلے اور پھیپھڑوں کے انفیکشن میں مبتلا تھے۔

یونیسیف کی رانا فلاورز نے زور دیا کہ آئندہ ایسے بحرانوں سے بچنے کے لیے حفاظتی ٹیکہ کاری کے پروگرام مزید مضبوط بنانا ہوں گے جبکہ اسپتالوں، نگرانی کے نظام اور طبی ڈیٹا کے شعبوں میں بھی زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

Related Posts