فلپائن کے دارالحکومت منیلا کے قریب زیرِ تعمیر عمارت گرنے کے واقعے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر تین ہوگئی ہے جبکہ حکام کے مطابق اب بھی 17 افراد لاپتا ہیں۔ یہ افسوسناک حادثہ اتوار کے روز پیش آیا تھا جب زیر تعمیر نو منزلہ عمارت اچانک زمین بوس ہوگئی اور اس کے ملبے نے قریب موجود ایک ہوٹل کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا جہاں ایک ملائیشین شہری ہلاک ہو گیا۔
حادثے کے بعد ملبے تلے دبے دو مزدوروں کو زندہ نکال لیا گیا تھا تاہم شدید زخمی ہونے کے باعث دونوں جانبر نہ ہو سکے۔ یہ واقعہ دارالحکومت منیلا کے شمال میں واقع شہر اینجلس میں پیش آیا۔
علاقائی فائر بیورو کی ترجمان ماریا لیاہ سجیلی نے اے ایف پی کو بتایا کہ دونوں متاثرہ مزدوروں میں سے ایک کو زندہ نکال لیا گیا تھا لیکن اس کی حالت زیادہ خراب ہونے کے باعث ڈاکٹروں کی کوششوں کے باوجود اسے بچایا نہ جا سکا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ دوسرا مزدور رات تقریباً 3 بجے دل کا دورہ پڑنے سے دم توڑ گیا جبکہ وہ اس وقت تک ملبے میں پھنسا ہوا تھا اور ڈاکٹر فوری طبی امداد فراہم نہیں کر سکے۔
حکام کے مطابق لاپتا افراد میں زیادہ تر تعمیراتی مزدور شامل ہیں جو حادثے کے وقت عمارت کے قریب سو رہے تھے۔ فائر حکام کا کہنا ہے کہ اب تک عمارت گرنے کی اصل وجہ معلوم نہیں ہو سکی۔
سرکاری اطلاعات کے مطابق تعمیراتی مقام پر تقریباً 70 افراد کام کرتے تھے تاہم ویک اینڈ ہونے کی وجہ سے بیشتر مزدور اپنے گھروں کو جا چکے تھے۔
55 سالہ الفریڈو البِس نے اے ایف پی کو بتایا کہ وہ عمارت سے تقریباً پانچ میٹر کے فاصلے پر مزدوروں کی بیرک میں سو رہے تھے کہ اچانک عمارت زمین بوس ہوگئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے دو کزن اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں جو اپنے اہل خانہ کیلئے روزگار کمانے یہاں آئے تھے اور خدشہ ہے کہ وہ اب زندہ نہ ہوں۔
فائر بیورو کی ترجمان ماریا لیاہ سجیلی نے بتایا کہ کسی منہدم عمارت میں ریسکیو آپریشن انتہائی مشکل مرحلہ ہوتا ہے کیونکہ امدادی کارکنوں کی معمولی حرکت بھی ملبے کو مزید سرکا سکتی ہے جس سے نیچے دبے افراد کے کچلے جانے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
SCENES A nine-story building under construction in a city north of the #Philippine capital #Manila collapsed before dawn on Sunday, leaving at least one Malaysian tourist dead and at least 21 mostly workers trapped in the rubble, officials said. Two were located alive but could… pic.twitter.com/JByQf5U6u4
— ShanghaiEye🚀official (@ShanghaiEye) May 25, 2026
انہوں نے کہا کہ اچانک حرکتیں امدادی اہلکاروں کیلئے بھی جان لیوا ثابت ہوسکتی ہیں اسی لیے زیادہ تر ریسکیو کام ہاتھوں سے احتیاط کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق اب ریسکیو ٹیمیں تھرمل اسکینرز کی مدد سے ملبے کے نیچے زندگی کے آثار تلاش کریں گی۔ اگر مزید زندہ افراد نہ مل سکے تو بھاری مشینری اور کھدائی کرنے والے آلات استعمال کرکے ملبہ ہٹایا جائے گا اور لاشیں نکالی جائیں گی تاہم اس عمل کیلئے کوئی حتمی وقت نہیں بتایا گیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








