وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انور چوہدری نے کہا ہے کہ گوادر پورٹ نے ایک اہم آپریشنل سنگ میل حاصل کر لیا ہے جہاں ایک بڑی ڈیپ ڈرافٹ کارگو شپ کو کامیابی کے ساتھ برتھ کیا گیا اور اس کا سامان اتارا گیا۔ اس پیش رفت کو خطے میں گوادر کی بڑھتی ہوئی ٹرانس شپمنٹ صلاحیت کا واضح ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزیر کے مطابق یہ بحری جہاز ایم وی بی جیا شان تھا جو ہانگ کانگ/چین سے روانہ ہوا تھا اور جس کے کپتان لی ہان تھے۔ اس جہاز کو 24 مئی 2026 کو گوادر پورٹ پر محفوظ طریقے سے لنگر انداز کیا گیا۔اس میں تقریباً 53,277.42 میٹرک ٹن اعلیٰ معیار کے اسٹیل بلٹس موجود تھے جو تقریباً 20,669 ٹکڑوں پر مشتمل تھے۔
انہوں نے بتایا کہ یہ آپریشن اس لحاظ سے بھی اہم تھا کہ جہاز کا ڈرافٹ تقریباً 12.8 میٹر تھا جو اس کا ثبوت ہےکہ گوادر پورٹ کی گہرا سمندری نیویگیشن چینل اور جدید انفراسٹرکچر بھاری جہازوں کو سنبھالنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔
سرکاری بیان کے مطابق یہ جہاز چین کے بایوکیون بندرگاہ سے روانہ ہوا تھا اور اس کا اصل منزل عمان کی سہار پورٹ تھی تاہم اسے ٹرانس شپمنٹ کے لیے گوادر موڑ دیا گیا۔ یہ تبدیلی اس بات کی علامت ہے کہ بین الاقوامی شپنگ لائنز گوادر کی اسٹریٹجک اہمیت اور آپریشنل استعداد پر بڑھتا ہوا اعتماد ظاہر کر رہی ہیں۔
وزیر نے مزید کہا کہ اس نوعیت کے بڑے بحری جہازوں کی کامیاب آمد اور ہینڈلنگ سے گوادر پورٹ کا کردار مزید مستحکم ہو رہا ہے جو چین، مشرق وسطیٰ، وسطی ایشیا اور دیگر علاقائی منڈیوں کے درمیان بحری تجارت کے روابط کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ مسلسل بڑی شپنگ سرگرمیوں کی موجودگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ گوادر ایک جدید ڈیپ واٹر پورٹ کے طور پر عالمی سپلائی چینز میں اپنی جگہ تیزی سے مضبوط کر رہا ہے۔
بیان میں واضح کیا گیا کہ وزارتِ بحری امور اور گوادر پورٹ حکام محفوظ، موثر اور کم لاگت بندرگاہی آپریشنز کو یقینی بنانے کیلئے پرعزم ہیں تاکہ پاکستان کی علاقائی رابطہ کاری اور بین الاقوامی تجارت میں کردار مزید مضبوط ہو سکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








