نادرا کی پاک ایپ صارفین کی تصاویر کیوں مسترد کرتی ہے؟ اصل وجہ اور حل سامنے آگیا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

گھر بیٹھے شناختی کارڈ اور دیگر دستاویزات بنوانے کیلئے نادرا کی پاک آئی ڈی سروس شہریوں کیلئے بڑی سہولت بن چکی ہے تاہم اب بھی متعدد افراد موبائل فون سے درست تصویر اپ لوڈ نہ ہونے کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں۔

نادرا حکام نے اس مسئلے کی وجوہات اور درست طریقہ کار واضح کر دیا ہے تاکہ شہری بغیر کسی پریشانی کے اپنی درخواست مکمل کر سکیں۔

پاکستان سمیت بیرونِ ملک مقیم شہریوں کو قومی شناختی دستاویزات جاری کرنے کا اختیار نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے پاس ہے۔ ادارے نے عوامی سہولت کیلئے ملک بھر میں نادرا سینٹرز اور ہزاروں ای سہولت مراکز قائم کیے ہیں جبکہ پاک آئی ڈی سروس کے ذریعے گھر بیٹھے شناختی دستاویزات حاصل کرنے کی سہولت بھی فراہم کر رکھی ہے۔

اسکے باوجود بہت سے صارفین کو پاک آئی ڈی موبائل ایپ پر تصویر اپ لوڈ کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ بعض اوقات تصویر بن تو جاتی ہے لیکن ایپ اسے قبول نہیں کرتی جس کے باعث درخواست کا عمل مکمل نہیں ہو پاتا۔

اس حوالے سے نادرا کے پبلک انفارمیشن آفیسر سید شباہت علی نے بتایا کہ تصویر مسترد ہونے کی کئی ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں۔ ان کے مطابق اگر بچے نے ایسی ٹوپی پہن رکھی ہو جس سے ماتھا چھپ رہا ہو، چہرہ واضح نہ ہو، بچہ مسلسل اِدھر اُدھر دیکھ رہا ہو یا تصویر کا پس منظر سفید نہ ہو تو ایپ تصویر قبول نہیں کرتی۔

انہوں نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ تصویر بناتے وقت ایسی جگہ کا انتخاب کریں جہاں بیک گراؤنڈ سفید ہو اور چہرہ مکمل طور پر واضح نظر آئے۔ اگر پھر بھی دشواری پیش آئے تو نادرا کی فوٹو گائیڈ ایپلی کیشن سے مدد لی جا سکتی ہے۔

نادرا حکام کے مطابق پاک آئی ڈی کیلئے وہی تصویر قابل قبول سمجھی جاتی ہے جس میں چہرہ صاف دکھائی دے، ناک یا کان نہ چھپے ہوں اور ایسا کوئی لباس یا ٹوپی استعمال نہ کی گئی ہو جو پیشانی کو ڈھانپ رہی ہو۔

مزید رہنمائی کیلئے نادرا کی فراہم کردہ تفصیلی ہدایات دیکھی جا سکتی ہیں۔

Related Posts