امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کا کہنا ہے کہ جنوبی ایران کے مختلف علاقوں میں فضائی کارروائیاں کی گئی ہیں، جن کا ہدف ڈرون سے متعلق بنیادی تنصیبات تھیں جہاں سے بغیر پائلٹ طیاروں کے آپریشنز کیے جاتے ہیں۔
سینٹ کام کے مطابق ان کارروائیوں میں ایران کے وہ مراکز نشانہ بنائے گئے جہاں ڈرونز کی لانچنگ اور آپریشنل تیاری کی جاتی ہے، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ بارودی سرنگیں بچھانے کے لیے استعمال ہونے والی بعض ایرانی کشتیوں پر بھی حملے کیے گئے۔۔
سینٹ کام کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ بندی کے موجودہ تناظر میں امریکی افواج نے تحمل کا مظاہرہ کیا ہے، تاہم ضرورت پڑنے پر اپنے دفاع کیلئے اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ بندرعباس میں مجموعی صورتحال قابو میں ہے اور کسی غیر معمولی خطرے یا تشویش کی کیفیت نہیں۔
دوسری جانب تازہ پیش رفت پر ردعمل دیتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو ہر صورت کھلا رہنا چاہیے اور اسے کسی نہ کسی طریقے سے فعال رکھا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی اشارہ دیا کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی تفصیلات پر مذاکرات جاری ہیں جنہیں مکمل ہونے میں چند دن لگ سکتے ہیں، جبکہ بعض ابتدائی نکات پر بات چیت ہو رہی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








