قومی بچت کے مرکزی ادارے نے مختلف بچت اسکیموں پر منافع کی شرحوں میں ردوبدل کیا ہے تاہم بہبود سیونگ سرٹیفکیٹس پر دی جانے والی شرحِ منافع کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس اقدام سے خاص طور پر بزرگ شہریوں، بیواؤں اور معذور افراد کو سہولت ملے گی جو اپنی مالی ضروریات کے لیے اس اسکیم پر انحصار کرتے ہیں۔
حکام کے مطابق اس فیصلے کا مقصد ان طبقات کے مالی حالات میں استحکام برقرار رکھنا ہے جو بہبود سیونگ سرٹیفکیٹس سے حاصل ہونے والی ماہانہ آمدنی کے ذریعے روزمرہ اخراجات پورے کرتے ہیں۔
یہ اسکیم 2003 میں متعارف کروائی گئی تھی تاکہ مالی مشکلات کا سامنا کرنے والی بیواؤں اور عمر رسیدہ شہریوں کی مدد کی جا سکے۔ بعد ازاں اس میں معذور افراد اور خصوصی بچوں کو بھی سرپرستوں کے ذریعے شامل کر لیا گیا۔
بہبود سیونگ سرٹیفکیٹس کے موجودہ نظام کے تحت منافع کی شرح 12 فیصد پر برقرار رکھی گئی ہے جبکہ منافع کی ادائیگی خریداری کی تاریخ سے ہر ماہ کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔اس حساب سے اگر کوئی شخص ایک لاکھ روپے سرمایہ کاری کرے تو اسے تقریباً ایک ہزار روپے ماہانہ منافع حاصل ہوگا۔
یہ سرٹیفکیٹس مختلف مالیت میں دستیاب ہیں جن میں 5 ہزار، 10 ہزار، 50 ہزار، ایک لاکھ، 5 لاکھ اور 10 لاکھ روپے کے سرٹیفکیٹس شامل ہیں۔
بہبود سیونگ سرٹیفکیٹس میں سرمایہ کاری کے لیے کم از کم حد 5 ہزار روپے مقرر ہے جبکہ ایک فرد زیادہ سے زیادہ 75 لاکھ روپے تک سرمایہ کاری کر سکتا ہے۔
حکام نے مزید بتایا کہ اس اسکیم سے حاصل ہونے والے منافع پر ودہولڈنگ ٹیکس لاگو نہیں ہوتا، جبکہ سرمایہ کاری زکوٰۃ کی لازمی کٹوتی سے بھی مستثنیٰ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مستقل ماہانہ آمدنی کے خواہشمند اہل سرمایہ کاروں کے لیے یہ اسکیم ایک موزوں اور قابلِ اعتماد انتخاب سمجھی جاتی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








