قربانی کی کھالیں کن افراد یا تنظیموں کا نہیں دی جا سکتی؟ حکومت نے سب کچھ بتادیا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

عیدالاضحیٰ سے قبل پنجاب کے محکمہ داخلہ نے کالعدم اور زیرِ نگرانی تنظیموں کی ایک تفصیلی فہرست جاری کر دی ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ قربانی کی کھالیں یا کسی بھی قسم کا عطیہ ایسے اداروں کو نہ دیں جن پر پابندی ہو یا جن کی سرگرمیاں مشکوک سمجھی جاتی ہوں۔

حکام کے مطابق یہ اقدام عید سے پہلے سیکیورٹی سخت کرنے اور مالی نگرانی کے نظام کو مؤثر بنانے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ فلاحی عطیات کو غلط مقاصد کے لیے استعمال ہونے سے روکا جا سکے۔

محکمہ داخلہ نے خبردار کیا ہے کہ کالعدم تنظیموں کو مالی یا کسی اور قسم کی مدد فراہم کرنا انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت سنگین جرم تصور ہوتا ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔

شہریوں کو تاکید کی گئی ہے کہ وہ جانوروں کی کھالیں صرف انہی فلاحی اداروں کے حوالے کریں جو پنجاب چیریٹی کمیشن سے باقاعدہ رجسٹرڈ اور تصدیق شدہ ہوں۔ حکام نے بتایا کہ اداروں کی تصدیق کمیشن کی جانب سے جاری کردہ کیو آر کوڈ والے سرٹیفکیٹس کے ذریعے کی جا سکتی ہے۔

ضلعی انتظامیہ کو بھی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ عید کے دوران صرف وہی مدارس اور فلاحی تنظیمیں کھالیں جمع کر سکیں گی جنہیں ڈپٹی کمشنرز کی جانب سے باقاعدہ اجازت دی گئی ہو۔

حکام نے اس بات پر زور دیا کہ عطیہ دینے سے پہلے متعلقہ ادارے کے اجازت نامے اور رجسٹریشن دستاویزات ضرور چیک کیے جائیں تاکہ قانون پر عمل یقینی بنایا جا سکے اور رقوم یا کھالیں غیر قانونی عناصر تک نہ پہنچ سکیں۔

اس فہرست میں متعدد ایسی تنظیمیں شامل ہیں جن پر قومی سلامتی کے قوانین کے تحت پہلے ہی پابندی عائد کی جا چکی ہے جبکہ متعلقہ اداروں کو عید کے دنوں میں سخت نگرانی اور مکمل عملدرآمد کی ہدایات دی گئی ہیں۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں فوری کارروائی کی جائے تاکہ صوبے بھر میں حکومتی احکامات پر موثر انداز میں عمل یقینی بنایا جا سکے۔

Related Posts