میدانِ عرفات کی حدود میں طلوعِ آفتاب کے بعد سے اب تک16لاکھ سے زائد عازمینِ حج موجود ہیں جو لبیک اللہم لبیک کی صداؤں کے ساتھ ذکر و اذکار میں مشغول ہیں۔ فضا تسبیح و تمجید سے گونج رہی ہےجبکہ ہر طرف بلند ہوتے ہاتھ اور دعاؤں میں ڈوبی آنکھیں اس روحانی منظر کو مزید پراثر بنا رہی ہیں۔ یومِ عرفہ کے اس موقع پر لاکھوں چہرے خشیتِ الٰہی سے تر اور دل عاجزی کے جذبے سے معمور دکھائی دیتے ہیں۔
علماء کے مطابق یومِ عرفہ اسلامی تقویم کے نہایت مقدس اور بابرکت دنوں میں شمار ہوتا ہے جسے رحمت، مغفرت اور روحانی پاکیزگی کے عظیم موقع کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یہ دن حجۃ الوداع کے تاریخی واقعے سے بھی جڑا ہوا ہے جب 632 عیسوی میں نبی اکرم ﷺنے جبلِ عرفات پر اپنے آخری خطبے کے دوران عدل، مساوات اور انسانی حقوق کے بنیادی اصول واضح فرمائے تھے۔



حجاج کرام دن بھر میدانِ عرفات میں قیام کریں گے اور اس دوران زیادہ تر وقت عبادت، دعا اور استغفار میں گزارا جائے گا۔ بڑی تعداد میں عازمین صبح کے ابتدائی اوقات میں ہی جبلِ رحمت اور اس کے اطراف پہنچ گئے تھے۔ رپورٹ کے مطابق وقوفِ عرفہ کی ادائیگی کیلئے 8 ذوالحجہ (یوم الترویہ) کی رات سے وادی منیٰ سے حجاج کو منظم قافلوں کی صورت میں عرفات منتقل کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا۔




میدانِ عرفات میں اس سال انتظامات کو خصوصی طور پر موثر اور منظم قرار دیا جا رہا ہے۔ ازدحام کو کم کرنے کے لیے مسجدِ نمرہ اور جبلِ رحمت کی آمد و رفت کے راستوں کو الگ الگ رکھا گیا ہے تاکہ کسی قسم کی بھیڑ یا رکاوٹ پیدا نہ ہو اور حجاج آسانی سے اپنی منزل تک پہنچ سکیں۔ ٹریفک پولیس کے یونٹس مرکزی شاہراہوں پر مسلسل موجود رہے اور پورے نظامِ آمد و رفت کو کنٹرول میں رکھا گیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








