کراچی میں مفت واٹر ٹینکر سروس کے نام پر مبینہ طور پر ایک نئی متنازع اسکیم سامنے آگئی ہے جہاں بلدیہ عظمیٰ کراچی کی جانب سے ضلع جنوبی کے درجنوں افراد کو روزانہ ہزاروں گیلن پانی مفت فراہم کرنے کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس اسکیم کے تحت ماہانہ کروڑوں روپے مالیت کا پانی تقسیم کیے جانے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے جبکہ ناقدین اسے مراعات یافتہ افراد میں سرکاری وسائل بانٹنے کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔
سینئر صحافی اسلم شاہ نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا کہ دستاویزات کے مطابق میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کی ہدایت پر ضلع جنوبی کے 46 مبینہ غریب و مستحق افراد کو مفت ٹینکر سروس فراہم کرنے کا آغاز کیا گیا ہے۔ اس مد میں 11 لاکھ 2 ہزار 500 روپے یومیہ، 3 کروڑ 30 لاکھ 75 ہزار روپے ماہانہ اور تقریباً 40 کروڑ روپے سالانہ مالیت کے پانی کی فراہمی کا فارمولا ترتیب دیا گیا ہے۔ فہرست میں شامل افراد کے نام، ولدیت، فون نمبرز اور ٹینکرز کی مقررہ مقدار بھی درج ہے جبکہ ذرائع دعویٰ کر رہے ہیں کہ فہرست میں سیاسی وابستگی رکھنے والے افراد کی اکثریت شامل ہے۔
ذرائع کے مطابق ایک ہزار سے لے کر 27 ہزار گیلن تک پانی روزانہ مفت فراہم کیا جائے گا اور فہرست میں شامل افراد سے ایک روپیہ بھی وصول نہیں کیا جائے گا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ مال مفت دل بے رحم کے مصداق سرکاری وسائل اپنے لوگوں میں تقسیم کرنے کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ مفت ٹینکر سروس کی یہ فہرست ہائیڈرنٹس سیل کے انچارج صدیق تنیو کی جانب سے تین ہائیڈرنٹس ٹھیکیداروں کو ارسال کی گئی جس میں ہدایت دی گئی کہ میئر کراچی کے اطراف یونین کونسلوں اور پارٹی سے وابستہ مستحق افراد کو مفت پانی فراہم کیا جائے جبکہ اس کے اخراجات ٹھیکیداروں کے واجبات میں ایڈجسٹ کر دئیے جائیں گے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ یہ مراعات یافتہ افراد کی پہلی فہرست ہے اور دوسری و تیسری فہرست بھی جلد جاری کیے جانے کا امکان ہے۔ مزید چار ٹھیکیداروں کو بھی ایسے افراد کے نام فراہم کیے جائیں گے جنہیں مفت ٹینکر سروس دی جائے گی۔
پہلی فہرست میں سٹی کونسل کراچی کے پارلیمانی لیڈر کرم اللہ وقاصی کا نام بھی شامل ہے جنہیں روزانہ27 ہزار گیلن پانی مفت فراہم کیے جانے کا کہا گیا ہے۔شیریں جناح کالونی یوسی 12کے وائس چیئرمین وسیم گل کو روزانہ 15 ہزار گیلن پانی دئیے جانے کی تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق پانی کے اس استعمال یا فروخت کا اختیار متعلقہ افراد کے پاس ہوگا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کمشنر کراچی سید حسن نقوی نے گزشتہ آٹھ برس سے جاری ڈی سی کوٹہ کے تحت مفت ٹینکر سروس بند کر دی تھی کیونکہ سندھ حکومت کی جانب سے اب تک واجبات ادا نہیں کیے گئے۔ ٹھیکیداروں کا کہنا ہے کہ ڈی سی کوٹہ کے تحت ان کے تقریباً پانچ ارب روپے سے زائد کے واجبات ابھی تک بقایا ہیں جبکہ انہی مالی مسائل کے باعث ہائیڈرنٹس کی نیلامی بھی خطرے میں پڑ چکی ہے۔
ذرائع کے مطابق میئر کراچی کی جانب سے جاری نئی فہرست شیر پاؤ، نیپا اور صفورا ہائیڈرنٹس کے ٹھیکیداروں کو بھجوائی گئی ہے جنہیں ہدایت دی گئی کہ وہ مفت ٹینکر سروس فراہم کریں اور اخراجات بعد میں ایڈجسٹ کر لیے جائیں گے۔
فہرست میں ضلع جنوبی کے مختلف علاقوں کے افراد شامل ہیں جن میں گزری، اپر گزری، لوئر گزری، دہلی کالونی، پی اینڈ ٹی کالونی، حضرت کالونی، شاہ رسول کالونی، نیلم کالونی، شیریں جناح کالونی، تکری کالونی، کشمیر مجاہد کالونی، چوہدری کالونی اور ریتا لائن شامل ہیں۔
دستاویزات کے مطابق جن افراد کو مفت پانی فراہم کیا جانا ہے ان میں بابو عزیز الرحمان، حضرت خان، نوید، اشفاق قریشی، آغا سعید احمد، قرطبہ مسجد، سلطان محمد، آصف خان، فیصل، غریب گل، حمید خان، پرویز اعوان، نعمان، مبارک علی، کاشف، ابراہیم منگی، انور، نعمان مصری، جہاں زیب، سلیم بنوری، عذیر گل، اسرار مندوخیل، شیراز، گوہر، سعید جدون، ضیاء آفریدی، عتیق، اویس خان، عمران زمان، دین محمد، جمیل، لاہور شیخ، تنویر ابڑو، نظر محمد، شیخ عبید، حمید چانڈیو، ضمیر محمود اور اشفاق سمیت دیگر شامل ہیں۔
ذرائع کے مطابق ایک ہزار گیلن پانی کی لاگت تقریباً 3500 روپے بنتی ہے جبکہ مجموعی طور پر ایک لاکھ 27 ہزار گیلن یومیہ پانی کی فراہمی پر تقریباً 39 کروڑ 69 لاکھ روپے کے اخراجات آئیں گے جو ہائیڈرنٹس کے ٹھیکیداروں کو برداشت کرنا پڑیں گے۔
دوسری جانب ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ہائیڈرنٹس اور ٹینکر سروس ایک منافع بخش کاروبار بن چکا ہے جہاں ایک طرف سندھ حکومت کے بعض عناصر پر رشوت، کمیشن اور کک بیکس لینے کے الزامات ہیں تو دوسری طرف پانی چوروں کے خلاف کارروائی کے نام پر بھی لاکھوں روپے وصول کیے جا رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق سب سوائل واٹر اور اینٹی تھیفٹ سیل کے بعض افسران نے ہائیڈرنٹس سیل انچارج کے ذریعے ٹھیکیداروں سے ایک کروڑ روپے وصول کیے۔ متعدد ٹھیکیداروں نے مبینہ طور پر مؤقف اختیار کیا کہ وہ دباؤ کے باعث ادائیگیاں کرنے پر مجبور ہیں۔
یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ ہائیڈرنٹس سیل انچارج صدیق تنیو میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کے نام پر مختلف اوقات میں فنڈز وصول کرتے رہے ہیں جبکہ مبینہ چھاپوں کے دوران ایک کروڑ روپے جرمانے کے علاوہ اضافی فنڈز بھی لیے گئے جن کا کوئی باقاعدہ ریکارڈ موجود نہیں۔
ذرائع کے مطابق ان تمام معاملات سے آگاہی کے باوجود چیف ایگزیکٹو آفیسر احمد علی صدیقی، چیف آپریشن آفیسر اسد علی خان اور دیگر متعلقہ تحقیقاتی ادارے خاموش ہیں جبکہ واٹر کارپوریشن میں مبینہ بے ضابطگیوں اور مالی بدعنوانیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
بعض افسران کا کہنا ہے کہ ہائیڈرنٹس کی نیلامی میں رکاوٹیں ڈال کر مخصوص افراد کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور بادی النظر میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مراعات یافتہ افراد کو اس پورے نظام میں حصہ دار بنایا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ہائیڈرنٹس سیل کے انچارج صدیق تنیو نے نمائندہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مفت ٹینکر سروس بند ہے اور انتظامیہ نے صرف مساجد کے لیے پانی جاری کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی مراعات یافتہ شخص کو مفت ٹینکر سروس فراہم نہیں کی جا رہی اور نہ ہی ٹھیکیداروں کو ایسی کوئی ہدایت دی گئی ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








