کراچی میں قصابوں کے معاوضے کہاں تک جا پہنچے؟ جانیں جانوروں کی کٹائی کے ریٹس

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

عیدالاضحیٰ 2026 کی آمد کے ساتھ ہی کراچی میں قصابوں کی فیسوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے کیونکہ شہر بھر میں قربانی کے جانوروں کی ذبح اور گوشت تیار کرنے کی خدمات کی مانگ میں تیزی سے اضافہ ہو گیا ہے۔ عید کی تیاریوں کے دوران عوام کو بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ایک نئے معاشی دباؤ سے دوچار کر دیا ہے۔

مارکیٹ ذرائع کے مطابق بکرے یا چھوٹے جانور جن کا وزن تقریباً 25 کلوگرام تک ہوتا ہے ان کی ذبح اور گوشت بنانے کی معاوضہ اس وقت 8 ہزار روپے سے بڑھ کر 12 ہزار روپے تک پہنچ چکی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ چند دنوں کے دوران ہی ریٹس میں واضح اضافہ سامنے آیا ہے۔

اسی طرح گائے اور بیل جیسے بڑے جانوروں کی قربانی کے لیے بھی اخراجات میں اضافہ ہوا ہے جہاں قصاب 30 ہزار سے 40 ہزار روپے تک فیس وصول کر رہے ہیں۔ ان جانوروں کی پروسیسنگ میں زیادہ وقت اور محنت لگنے کے باعث قیمتیں بھی نسبتاً زیادہ بتائی جا رہی ہیں۔

اجتماعی قربانی کرنے والے افراد کے لیے بھی ریٹس بڑھ گئے ہیں جہاں گائے کے ایک حصے کی تیاری کے لیے تقریباً 4 ہزار سے 6 ہزار روپے تک وصول کیے جا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق تین من سے زیادہ وزن رکھنے والے بھاری جانوروں کی قربانی کے لیے یہ اخراجات 50 ہزار روپے سے بھی تجاوز کر جاتے ہیں۔

دوسری جانب اونٹ کی قربانی کو اس سیزن میں سب سے مہنگی سروس قرار دیا جا رہا ہے، جس کی فیس 50 ہزار روپے سے شروع ہو کر 80 ہزار روپے یا اس سے بھی زیادہ تک پہنچ رہی ہے جو جانور کے سائز اور ذبح کے عمل کی پیچیدگی پر منحصر ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ ان بڑھتے ہوئے نرخوں نے عید کی خوشیوں کو مہنگائی کے دباؤ میں بدل دیا ہے جبکہ قصابوں کا موقف ہے کہ مہنگائی، ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور مزدوری کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث ریٹس میں اضافہ ناگزیر ہو گیا ہے۔

Related Posts