سابق وزیراعظم نوازشریف کے علاج کیلئے لندن جانے کے بعد کئی ماہ گزرنے کے باوجود تاحال ان کی بیماری کے حوالے سے کوئی اطلاعات سامنے نہیں آسکیں، حکومت بھی ان کی بیماری کے حوالے سے مکمل طور پر لاعلم ہے صرف اتنی معلومات سامنے آئی ہیں کہ نوازشریف کسی پیچیدہ بیماری میں مبتلا ہے اور ان کی جلد وطن واپسی کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔
حکومت نے ان کے معالجین سے صحت کے حوالے سے معلومات حاصل کرنے کی کئی کوششیں کیں لیکن ہر بار ناکامی کاسامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے پنجاب حکومت نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما کی دی گئی ضمانت منسوخ کردی ہے،اب آخری حربے کے طور پر وفاقی حکومت نے برطانوی حکام کو نوازشریف کوملک بدر کرنے کے لئے ایک خط لکھا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ نوازشریف کو وطن واپس لانے کیلئے قانونی تقاضے پورا کرنا ضروری ہے جبکہ نوازشریف کووطن واپس لانے کیلئے اقدامات سے پی ٹی آئی حکومت کی مایوسی صاف ظاہر ہوتی ہے کیونکہ چند ماہ قبل پی ٹی آئی حکومت نے سابق وزیراعظم نوازشریف کو علاج کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت دی تھی تاہم اب ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو اپنے فیصلہ پر شدید پچھتاوا ہورہاہے۔
برطانیہ اور پاکستان کے درمیان حوالگی کا معاہدہ نہ ہونے کی وجہ سے مقامی قوانین کی خلاف ورزی پر متعلقہ ممالک کی درخواست پر ملک بدری کی جاتی ہے۔ نواز شریف نے اپنے قیام کے دوران برطانیہ کے کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔ وہ مفرور بھی نہیں ہیں کیونکہ انہیںطبی بنیادوں پر عدالتوں کی اجازت ملنے کے بعد باہر جانے کی اجازت ملی تھی اوران کی سزا معطل بھی معطل کردی گئی تھی اس لیے کسی بھی صورت میں ملک بدری کا عمل ایک لمبا اور پیچیدہ عمل ہے اور اس میں کئی مہینے لگ سکتے ہیں۔
حکومت نواز شریف کے ملک سے چلے جانے کے بعد عدلیہ کے ساتھ ہونے والے ایک اور تصادم سے گریز کر رہی ہے تاہم یہ دکھانے کیلئے کہ حکومت نوازشریف کو واپس لانے کیلئے سنجیدہ ہے اس لئے جلد بازی میں اقدامات اٹھائے جارہے ہیںجبکہ نوازشریف کو وطن واپس لانے کے حوالے سے عدالتوں سے رجوع نہ کرنے کی بھی کوئی معقول وجہ سامنے نہیں آئی۔
حکومت کی جانب سے برطانوی حکومت کو خط لکھے جانے کے بعد ن لیگ میں اشتعال پایا جارہاہے۔مسلم لیگ (ن) نے حکومت کی طرف سے نواز شریف کی صحت سے متعلق حقائق مسخ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے بتایا ہے کہ برطانوی اور امریکی ڈاکٹروں کی جانچ پڑتال کے بعد نوازشریف کی سرجری کے انتظامات کیے جارہے ہیں تاہم ن لیگ کی جانب سے سرجری کی نوعیت کے حوالے سے تفصیلات نہیں بتائی گئیں ۔
ن لیگ کا کہنا ہے کہ مریم نواز کی عدم موجودگی کی وجہ سے نوازشریف کیسرجری میں میں دو بار تاخیر ہوئی ہے۔نوازشریف نے 8 ہفتوں کی طبی ضمانت پر لندن جانے کے بعد 3 ماہ بعد بھی اپنی صحت کے حوالے سے وضاحت پیش نہ کرکے شکوک وشبہات کو جنم دینے کے ساتھ ضمانت کی بھی خلاف ورزی کی ہے۔