معیشت کی ترقی حقیقت یا خواب؟

تازہ ترین

تازہ ترین

The Glorious Legacy of Pakistan Television (PTV)

غریب کہاں جائے؟ اب وہ ہر طرف پریشان دکھائی دیتا ہے کیونکہ ٹی وی اور اخبارات میں مہنگائی کی شدت پر کوئی بات ہی نہیں کی جاتی۔ ایسا تاثر دیا جا رہا ہے جیسے پاکستان میں ہر شخص خوشحال اور امیر ہو چکا ہے، حالانکہ زمینی حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

عام آدمی کی تنخواہیں وہیں کی وہیں جمی ہوئی ہیں لیکن مہنگائی روز بروز بڑھ رہی ہے۔ اب تو غریب کے آنسو پونچھنے والا بھی کوئی نظر نہیں آتا۔ لوگ فکر مند ہیں کہ آنے والے دنوں میں حالات مزید کس نہج پر جائیں گے۔

نہ جینا آسان ہے اور نہ مرنا۔ بہت سے لوگ مجبوری میں غلط راستوں کی طرف جا رہے ہیں، یہ ان کی مرضی نہیں بلکہ حالات کا دباؤ ہے۔ اگر مہنگائی کے خلاف ہر شخص خاموش ہو گیا تو اداروں میں بیٹھے وہ چند ہمدرد افراد بھی عوام کی آواز سے محروم رہ جائیں گے جن پر بہتری کی امید وابستہ ہے۔

پاکستانی عوام اس وقت پُرامید ہوئے تھے جب اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) قائم ہوئی۔ لوگوں نے سمجھا کہ اب ملکی معیشت سنبھلنے لگے گی۔

حکومت نے بلیک مارکیٹنگ اور اسمگلنگ پر کچھ قابو پایا، ڈالر کی قیمت میں کمی دیکھی گئی اور اشیائے خورونوش کی افغانستان اسمگلنگ بھی رکی۔

یہ اقدامات عوام کو اچھے لگے اور امید بندھی کہ شاید مہنگائی میں کمی آئے گی، مگر یہ بہتری بارش کے چند قطروں کی طرح ثابت ہوئی جو جلد ہی ختم ہوگئی۔

ملک میں اب نہ ڈالر کی قیمت نیچے آ رہی ہے نہ پیٹرول کی۔ بجلی کے نرخ مسلسل بڑھ رہے ہیں اور ہر چیز مہنگی ہوتی جا رہی ہے۔ معیشت کی بہتری کے دعوے محض الفاظ لگتے ہیں کیونکہ عملی طور پر عام آدمی کی زندگی دن بہ دن مشکل ہو رہی ہے۔

نفرتوں کے دور میں انسانیت کا پیغام

پاکستان کی زراعت بھی دباؤ میں ہے۔ سیلاب کی وجہ سے گندم، چینی، کپاس اور چاول کی پیداوار شدید متاثر ہوئی ہے جس کے نتیجے میں درآمدات پر انحصار بڑھ رہا ہے۔

دوسری جانب ایکسپورٹ میں 10 فیصد اضافہ بتایا جا رہا ہے مگر اس کے بدلے عام عوام کو روزمرہ اشیاء 70 فیصد مہنگی خریدنا پڑ رہی ہیں۔

جو چیزیں عوام کے لیے ضروری ہیں وہ باہر بھیج دی جاتی ہیں اور نتیجے میں 250 ملین آبادی میں 95 فیصد لوگ مشکلات کا شکار ہیں جبکہ محض چند فیصد ایکسپورٹرز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

ماہرین معیشت ان اعداد و شمار کو ترقی قرار دیتے ہیں، لیکن حقیقی ترقی اس وقت ہوگی جب عوام کو وہ تمام اشیاء ضرورت سے زیادہ دستیاب ہوں جو پاکستان برآمد کرتا ہے۔

کنسٹرکشن انڈسٹری اس وقت سخت دباؤ میں ہے۔ عام آدمی کے لیے روٹی پوری کرنا مشکل ہے تو گھر بنانا کتنا دور کی بات ہو سکتی ہے۔ آج وہ مکان جو کبھی لاکھوں میں دستیاب تھا اب کروڑوں میں جا پہنچا ہے، مگر تنخواہیں وہی پرانی ہیں۔

گھروں کی تعمیر کے لوازمات جیسے سیمنٹ اور سریا انتہائی مہنگے ہو چکے ہیں۔ سیمنٹ زیادہ تر ایکسپورٹ کر دی جاتی ہے، جبکہ ملک کی تعمیراتی صنعت زوال کا شکار ہے۔

یوں لگتا ہے جیسے پاکستان کی معیشت چند امراء کے ہاتھوں کا کھلونا بن چکی ہے۔ وہ اسٹاک ایکسچینج اور زمینوں کے بڑے سودوں سے اربوں کماتے ہیں اور اسے قانونی طریقے کا نام دیتے ہیں، حالانکہ یہ دراصل سفید پوش جرائم ہیں جو معاشرے کو اندر سے کھوکھلا کر رہے ہیں۔

عوام آج بھی اس امید پر ہیں کہ ایس آئی ایف سی دوبارہ اپنے اصل ارادوں کی طرف لوٹے، اسمگلنگ کے خلاف سخت اقدامات کرے، ڈالر اور شرح سود کو نیچے لائے، اشیائے خوردونوش کو سستا کرے اور بلیک مارکیٹ مافیا کو لگام ڈالے تاکہ معیشت کی بہتری خواب نہیں بلکہ حقیقت بن سکے۔

Related Posts