نفرتوں کے دور میں انسانیت کا پیغام

تازہ ترین

تازہ ترین

The Glorious Legacy of Pakistan Television (PTV)

 دنیا کے ہر دور میں نفرت کے بیج مذہب کے نام پر بوئے گئے ہیں۔ مگر اصل میں یہ بیج وہ لوگ بوتے ہیں جن کا خود کسی بھی مذہب سے تعلق نہیں ہوتا۔

یہ وہ طبقہ ہے جو اپنے مذموم مقاصد کے لیے مقدس کتابوں اور پیغمبروں کے نام کو استعمال کرتا ہے۔ وہ جھوٹی اور بے بنیاد باتوں سے معاشرے کو تقسیم کرتا ہے اور انسان کو انسان کے خلاف کھڑا کرتا ہے۔

اگر ہم مسیحیت، اسلام یا دنیا کے کسی بھی بڑے مذہب پر نگاہ ڈالیں تو ان سب کا بنیادی پیغام محبت، انسانیت اور امن ہے لیکن افسوس کہ چند مطلب پرست عناصر، جنہیں نہ اپنی کتاب کا علم ہوتا ہے اور نہ اپنے دین کا فہم، وہی مذہب کے سوداگر بن کر دوسروں کو گمراہ کرتے ہیں اور نفرتوں کو جنم دیتے ہیں۔

اس کے باوجود انہی مذاہب میں ایسے نیک دل لوگ بھی موجود ہیں جو بار بار یہ واضح کرتے ہیں کہ کوئی بھی مذہب فساد، خون ریزی یا انسانیت دشمنی کی اجازت نہیں دیتا۔

اسلام کو اگرچہ آج دنیا بھر میں بدنام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں نہ تو جبراً کسی کو مسلمان بنانے کی روایت ہے اور نہ ہی کسی پیغمبر یا صحابی نے ایسا کیا۔

اسلام نے ہمیشہ محبت، کردار اور عملی زندگی کے ذریعے دعوت دی مگر وہ لوگ جنہوں نے صرف نام مسلمان کا رکھا، اپنے ذاتی مفادات کے لیے اسلام کو بدنام کیا اور مظالم کے ذریعے دین کے چہرے پر داغ لگانے کی کوشش کی، وہی اصل دشمن ہیں۔ ان کا انجام ہمیشہ عبرتناک رہا ہے اور رہے گا۔

پاکستان کی حقیقت بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ یہاں ہر فرقے اور مذہب کے لوگ بستے ہیں اور سب اس بات کے گواہ ہیں کہ انہیں اسلام کی وجہ سے کبھی نقصان نہیں پہنچا۔

حالیہ ایک انٹرویو میں فادر ماریو روڈیگز نے، جو کئی دہائیوں سے کراچی میں مسیحی برادری اور تعلیم کے شعبے میں خدمات انجام دے رہے ہیں، بڑے اعتماد سے کہا کہ انہوں نے اپنی پوری زندگی مسلمانوں کے ساتھ بھائیوں کی طرح گزاری ہے۔ ان کے پاس کبھی کوئی گارڈ نہیں رہا اور آج بھی وہ اسی اعتماد کے ساتھ رہتے ہیں جیسے اپنے ہی خاندان میں ہوں۔

فادر ماریو نے نہایت اہم بات کی کہ ہمارے مذہب اور مسلمانوں کے مذہب میں محبت کی تعلیم بنیادی ہے اور کسی پر ظلم کرنا بہت بڑا گناہ سمجھا جاتا ہے۔

ان کے مطابق فسادات اور تخریب کاریاں ہمیشہ وہ لوگ کرتے ہیں جن کا کسی مذہب یا ملک سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ یہ سازشی ٹولہ محض اپنے مفادات کے لیے مذہب کے نام کا سہارا لیتا ہے۔

یہاں سوال یہ ہے کہ دنیا ایسے عناصر کو کیوں برداشت کرے؟ یہی وجہ ہے کہ عالمی سطح پر صحافیوں اور اداروں نے “ہیٹ اسپیچ” جیسے قوانین بنائے۔ ہیٹ اسپیچ یعنی ایسی گفتگو، تحریر یا پرچار جو لوگوں کو آپس میں لڑائے۔ دنیا اس کو سب سے بڑا جرم مانتی ہے اور سخت سزائیں دیتی ہے۔

آج دنیا بھر میں انسانی حقوق کے ادارے اس بات پر کام کر رہے ہیں کہ ہیٹ اسپیچ کو ختم کیا جائے۔ مقصد یہی ہے کہ انسانیت کو فروغ ملے، محبت اور بھائی چارگی پروان چڑھے اور انسان ایک دوسرے کے ساتھ امن سے رہ سکیں۔

اصل بات یہی ہے کہ مذاہب کا پیغام نفرت نہیں، محبت ہے۔ فرق صرف ان سوداگر لوگوں کا ہے جو ہر دور میں مذہب کے نام پر اپنی دکانیں چمکاتے ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم ان کو پہچانیں اور اصل مذہب، اصل انسانیت اور اصل محبت کو اپنائیں۔

Related Posts