نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو میں منگل کے روز ایک 2 سالہ بچی آریاتارا شاکیا کو ملک کے سب سے طویل اور اہم ہندو تہوار دسائن کے موقع پر خاندان کے افراد نے گھر سے لے جا کر ایک مندر محل میں پیش کیا جہاں اسے نئی کماری یا زندہ دیوی کے طور پر منتخب کیا گیا۔ آریاتارا جوکہ 2 سال اور 8 ماہ کی ہے اب سابقہ کماری کی جگہ لے گی جو روایت کے مطابق بلوغت تک پہنچنے پر عام انسان بن جاتی ہے۔
نئی کماری کا انتخاب کھٹمنڈو وادی کے نیوار برادری کے شاکیا قبیلے سے کیا جاتا ہے جنہیں نیپال کے ہندو اور بدھ مت کے ماننے والے دونوں عقیدت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
منتخب ہونے والی لڑکیوں کی عمر 2 سے 4 سال کے درمیان ہوتی ہے اور ان کی جلد، بال، آنکھیں اور دانت بے داغ ہونے چاہئیں۔ اس کے علاوہ، انہیں اندھیرے سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔
رواں ماہ کے شروع میں اندرا جاترا تہوار کے دوران سابقہ کماری کو عقیدت مندوں کے ہاتھوں کھینچے جانے والے رتھ پر بٹھا کر گھمایا گیا تھا۔ کماری ہمیشہ سرخ لباس پہنتی ہے اپنے بالوں کو سر پر جوڑے کی شکل میں سجاتی ہے اور اس کے ماتھے پر تیسری آنکھ بنائی جاتی ہے۔
اندرا جاترا جو ایک ہفتے تک جاری رہتا ہے اکتوبر میں منائے جانے والے تہواروں کا آغاز ہے جن میں دسائن جو نیپال کا سب سے بڑا تہوار ہے اور تہار یا دیوالی، روشنیوں کا تہوار شامل ہیں۔

منگل کو دسائن کا آٹھواں دن تھا جو 15 روزہ تہوار ہے اور اس میں نیکی کی برائی پر فتح کی خوشی منائی جاتی ہے۔ اس موقع پر دفاتر اور اسکول بند رہے اور لوگ اپنے خاندانوں کے ساتھ جشن منا رہے تھے۔
آریاتارا کے خاندان دوستوں اور عقیدت مندوں نے اسے کھٹمنڈو کی گلیوں میں جلوس کی شکل میں مندر محل تک پہنچایا جو اب کئی سالوں تک اس کا گھر ہوگا۔
عقیدت مندوں نے کماری کے پاؤں کو اپنے ماتھوں سے چھو کر عقیدت کا اعلیٰ درجہ ظاہر کیا اور اسے پھول اور نقد تحائف پیش کیے۔ نئی کماری جمعرات کو صدر سمیت دیگر عقیدت مندوں کو برکت دے گی۔
آریاتارا کے والد اننت شاکیا نے کہاکہ کل تک وہ صرف میری بیٹی تھی لیکن آج وہ ایک دیوی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان کی بیوی نے حمل کے دوران خواب دیکھا تھا کہ وہ ایک دیوی ہے جس سے انہیں معلوم ہوا کہ ان کی بیٹی کوئی خاص شخصیت بنے گی۔
سابقہ کماری ترشنا شاکیا جو اب 11 سال کی ہیں 2017 سے زندہ دیوی کے طور پر خدمات انجام دے رہی تھیں۔ وہ منگل کو خاندان اور حامیوں کے ساتھ ایک پالکی پر مندر کے پچھلے دروازے سے روانہ ہوئیں۔
شاکیا قبیلے کے اہل خاندان اپنی بیٹیوں کو اس باوقار مقام کے لیے منتخب کرانے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ کماری کا خاندان معاشرے اور اپنے قبیلے میں بلند مقام حاصل کرتا ہے۔
کماری کی زندگی محدود ہوتی ہے۔ ان کے چند مخصوص ساتھی ہوتے ہیں اور وہ سال میں صرف چند بار تہواروں کے لیے باہر نکل سکتی ہیں۔ سابقہ کماریوں کو عام زندگی میں ایڈجسٹ کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جیسے گھریلو کام سیکھنا اور باقاعدہ اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنا۔ نیپالی لوک داستانوں کے مطابق جو شخص سابقہ کماری سے شادی کرتا ہے اس کی عمر کم ہوتی ہے جس کی وجہ سے بہت سی کماریاں غیر شادی شدہ رہتی ہیں۔

گزشتہ چند سالوں میں روایت میں کئی تبدیلیاں آئی ہیں۔ اب کماری کو مندر محل کے اندر نجی اساتذہ سے تعلیم حاصل کرنے کی اجازت ہے اور وہ ٹیلی ویژن بھی رکھ سکتی ہیں۔
حکومت سابقہ کماریوں کو ماہانہ تقریباً 110 ڈالر کی پنشن بھی فراہم کرتی ہے جوکہ حکومت کی مقرر کردہ کم از کم اجرت سے کچھ زیادہ ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








