پاکستان اور افغانستان کے مابین امن مذاکرات جاری ہیں، اس معاملے پر سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے نشر کی جانے والی اطلاعات کے مطابق پاکستان نے افغان طالبان کو جامع پلان پیش کردیا ہے اور پاکستان نے جو مطالبات پیش کیے وہ مکمل طور پر واضح، شواہد پر مبنی اور مسئلے کا حقیقی حل ہیں۔
افغان طالبان کی ہٹ دھرمی، عدم سنجیدگی، عدم تعاون دیگر فریقوں، خصوصاً میزبان پر بھی واضح ہے۔پاکستانی وفد نے واضح کیا ہے کہ ہمارے دہشت گردی کے خلاف مرکزی مطالبات پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں۔میزبان اب بھی کوشش کر رہے ہیں کہ طالبان حقائق کو سمجھیں اور30 گھنٹوں تک جاری رہنے والے یہ مذاکرات نتیجہ خیز ثابت ہوسکیں۔
پاکستان نے بہت سادہ اور صاف و شفاف بات کی کہ طالبان دوحہ معاہدے پر عملدرآمد یقینی بنائیں، پاکستان نے اسی کو بنیاد بنا کر مذاکراتی ٹیم کو پیش کیا ہے۔پاکستان کا مطالبہ ہے کہ افغان طالبان ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے کیمپس کی بیخ کنی کریں۔ افغان طالبان سے گزارش بھی کی گئی ہے کہ مذاکرات میں دلچسپی لیں اور امن کو یقینی بنائیں۔
دراصل سرحد پار سے پاکستان جس دہشت گردی کا شکار ہورہا ہے، اگر افغان طالبان عالمی سطح پر کیے گئے اپنے وعدوں کا ہی پاس رکھ لیں اور انہیں وفا کریں تو پاکستان اس دہشت گردی سے بچ سکتا ہے۔ پاکستان نے تمام تر شواہد پیش کیے کہ کس بینک سے کس وقت کس کو افغانستان میں رقوم ٹرانسفر ہوئیں جس کے تحت پاکستان میں دہشت گردی اور عدم استحکام کو فروغ دیا گیا۔
اور اب بھی ہم یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر افغان طالبان کو کوئی انتظامی یا اسٹرکچرل مسائل درپیش ہیں تو پاکستان اس کا بھی ازالہ کرنے کیلئے تیار ہے اور دہشت گردی کا سامنا کرنے کیلئے افغان طالبان کی مدد بھی کی جائے گی۔
حال ہی میں پاکستان نے کھلم کھلا ہونے والی دہشت گردی سے مجبور ہو کر افغانستان میں دہشت گردوں کے ٹریننگ کیمپس کو نشانہ بنایا لیکن ہماری گولہ باری اور انٹیلی جنس بیسڈ کارروائی کا نشانہ افغان بھائی کبھی نہ تھے اور نہ کبھی رہیں گے۔
بی بی سی کے مطابق افغان طالبان کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کے وفد نے جنگ بندی کے معاہدے پر عملدرآمد کے لیے میکینزم یعنی طریقہ کار وضع کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
جمعے کو ایک بریفنگ کے دوران پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی کا کہنا تھا کہ اسلام آباد چاہتا ہے کہ استنبول مذاکرات میں شدت پسندی کے خاتمے کے لیے مانیٹرنگ کا تیز اور مصدقہ میکینزم تشکیل دیا جائے۔
گذشتہ ہفتے پاکستان اور افغانستان کے درمیان دوحہ میں جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا تھا تاہم پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی وجوہات کے باعث افغانستان کے ساتھ تجارت بدستور بند ہے۔اتوار کو پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کا کہنا تھا کہ افغانستان سے دراندازی کی کوششوں کو ناکام بنایا گیا جس میں 25 شدت پسندوں کی ہلاکت ہوئی ہے۔
ایک بیان میں آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی کے شدت پسندوں نے اسے وقت میں دراندازی کی کوشش کی ہے جب استبول میں مذاکرات جاری ہیں۔ پاکستانی فوج نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ سرحد پار شدت پسندی کے ایسے واقعات عبوری افغان حکومت کے ارادوں پر ’شکوک و شبہات پیدا کرتے ہیں۔ دوحہ معاہدے کے تحت عبوری افغان حکومت کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنا ہے۔
ایسا پہلی بار نہیں ہورہا بلکہ ماضی میں بھی بے شمار بار سرحد پار دہشت گردی کے باعث پاکستان میں بھاری جانی نقصان ہوا ہے اور پاکستان افغان حکومت سے اس معاملے میں احتجاج بھی کرتا رہا اور یہ یقینی بنانے کیلئے بیانات جاری کیے کہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا لیکن افغان طالبان کے دور میں یہ دہشت گردی مزید بڑھ گئی اور اب اسے لگام دینے کیلئے عالمی سطح پر مذاکرات کیے جارہے ہیں، جس سے امید ہوچلی تھی کہ جلد یا بدیر دہشت گردی کے اس عفریت کو لگام دینے میں کسی نہ کسی حد تک کامیابی ملے گی ۔
شنید یہ ہے کہ استنبول میں پاک افغان مذاکرات طالبان کی ہٹ دھرمی کے باعث تعطل کا شکار ہوگئے ہیں اور اب افغانستان کی عبوری حکومت کی آڑ میں بھارت سوشل میڈیا پر پاکستان کے خلاف بیشتر پراپیگنڈہ کرتا نظر آرہا ہے۔طالبان حکومت دہشت گردی کے خاتمے سمیت اصل مسائل سے توجہ ہٹانے میں مصروف ہے۔
قومی میڈیا کے مطابق سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کی ناکامی کی تمام تر ذمہ داری طالبان حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ افغان طالبان کے دلائل غیر منطقی اور زمینی حقائق سے ہٹ کر تھے۔ افغان حکومت بھارت کے زیر اثر بات چیت ڈی ریل ہوتی نظر آرہی ہے۔
یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا دہشت گردی کا عفریت ایک بار پھر سر اٹھائے گا؟ کیونکہ افغان طالبان حکومت سے پاکستان کے مذاکرات تو فی الوقت بارآور ثابت ہوتے نظر نہیں آتے۔
ضروری ہے کہ امید کا دیا روشن رکھتے ہوئے نئی جدتوں کے ساتھ پاک افغان مذاکرات کے نئے دور کی راہ ہموار کی جاتی رہنی چاہئے کیونکہ جنگ و جدل کی بجائے اس خطے میں امن و استحکام ہی معاشی و سفارتی استحکام کا ضامن ہوسکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں