بنگلادیش کے عبوری سربراہ محمد یونس ایک بار پھر بھارت کے لیے دردِ سر بن گئے ہیں۔
انہوں نے ڈھاکے کے دورے پر موجود پاکستان کے مسلح افواج کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد مرزا کو اپنی کتاب “آرٹ آف ٹرائمف” بطور تحفہ پیش کی، مگر اس کتاب کے سرورق پر موجود نقشہ نے ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا۔
اس متنازع نقشے میں بھارت کی شمال مشرقی ریاستیں، خصوصاً آسام، کو بنگلادیش کا حصہ دکھایا گیا ہے۔
یہ واقعہ جنرل ساحر شمشاد مرزا کے حالیہ ڈھاکا دورے کے دوران پیش آیا اور جب محمد یونس نے اس ملاقات کی تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کیں تو بھارتی میڈیا میں ہنگامہ مچ گیا۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ یہ نقشہ اُن نظریات کی عکاسی کرتا ہے جو مبینہ طور پر “گریٹر بنگلادیش” کے تصور کو تقویت دیتے ہیں۔
اب تک نہ بنگلادیشی حکومت اور نہ ہی بھارتی وزارتِ خارجہ نے اس معاملے پر کوئی ردِعمل دیا ہے، تاہم سیاسی و سفارتی حلقوں میں یہ بحث زور پکڑ چکی ہے کہ آیا یہ محض ایک اتفاق تھا یا ایک سوچی سمجھی علامتی چال۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








