اس وقت دنیا کو عالمی سطح پر بڑے مسائل درپیش ہیں یہاں تک کہ تیسری جنگ عظیم کے خطرات منڈ لارہے ہیں، مشرق وسطیٰ کے حالات ہوں یا ہمارے خطے میں بھارت کے جنگی عزائم اور مقبوضہ کشمیر میں جاری مظالم یا دہلی میں مسلم کشی یا افغانستان میں بدلتی صورتحال ہو تو دوسری جانب چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والے کورونا وائرس کی تباہ کاریاں جاری ہیں جس کی لپیٹ میں اس وقت پاکستان بھی سمیت 40 کے قریب ممالک آچکے ہیں جس کے باعث عالمی معیشت کو تقریباً 6 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے جبکہ تین ہزار سے زائد انسان لقمہ اجل بن چکے ہیں اور تقریباً 90 ہزار افراد اس سے متاثر ہیں اور ہنوز اس موذی وائرس کا علاج دریافت نہیں ہوسکا ہے۔ جبکہ پاکستان میں بھی 4 افراد میں اس وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے اور احتیاطی طور پر ملک بھر میں تمام اسکول بند کردیئے گئے ہیں، لیکن وطن عزیز میں عالمی و علاقائی خطرات سے نمٹنے یا ان کے سدباب کیلئے اقدامات کی فکر سے زیادہ روایتی سیاست جاری ہے اور اسی سیاسی تلاطم خیزی کے درمیان وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے گذشتہ ہفتہ سیاست کے معطر تالاب میں سابق وزیر اعظم پاکستان اور بانی پاکستان پیپلز پارٹی ذوالفقار علی بھٹو کو سلیکٹڈ گردانتے ہوئے جو پتھر پھینکا ہے اس سے ایک طوفان بپا ہے اور پیپلز پارٹی کے عام جیالے سمیت مرکزی قیادت اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سب چراغ پا ہیں اور شیخ رشید کے خوب لتے لے رہے ہیں اور تمام عالمی و علاقائی اور اندرونی و بیرونی خطرات اور مسائل میں اس وقت سلیکٹڈ کون الیکٹڈ کون کا فیصلہ ہونا سب سے اہم مسئلہ بن چکا ہے۔ الیکشن 2018 کے نتیجے میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت وجود میں آئی اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان وزیر اعظم منتخب ہوئے تو چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی نے پہلے ہی اسمبلی اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان کو منتخب کے بجائے الیکٹڈ وزیر اعظم کہہ کر مخاطب کیا اور جب سے ہی وہ اور تمام اپوزیشن عمران خان کو سلیکٹڈ وزیر اعظم کہہ کر ہی مخاطب کرتی ہے جس کا جواب تحریک انصاف کے لوگ بھی اپنی اپنی لیاقت اور فراست کے مطابق ادبی شاہکار تخلیق کرکے دیتے رہتے ہیں۔ ہماری سیاست کا چلن یہ ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کا کارکن ہو یا رہنما اپنے قائدین کی پرستش کی حدتک احترام کرتے ہیں انہیں نہ تاریخی پس منظر سے کوئی سروکار ہے نہ حقائق سے آگاہی صرف قیادت کا فرمان ہی حرف آخر ہوتا ہے ذوالفقار علی بھٹو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں متنازعہ اور بہت ہی معتبر نام ہے جو کہ 50 کی دہائی میں پاکستان کی سیاست کے افق پر تیزی سے ابھر کر سامنے آیا وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ذہن و فطین ہونے کیساتھ ساتھ بڑی دلکش اور کرشمہ ساز شخصیت کے حامل تھے لیکن ہر انسان کی طرح بشریٰ خامیاں بھی رہی ہوں گی ذوالفقار علی بھٹو کی ابتدائی سیاسی جدوجہد کا آغاز کس طرح ہوا شاید اس کو ہی مد نظر رکھ کر شیخ رشید نے بھٹو کو سلیکٹڈ کہہ ڈالا، اس تناظر میں ایک تاریخی حوالہ پیش خدمت ہے۔ سیاست میں نووارد ذوالفقار علی بھٹو 1958 میں پاکستانی وفد کی قیادت کرتے ہوئے سمندر کے بارے میں قوانین سے متعلق کانفرنس میں شرکت کیلئے جنیوا گئے جہاں سے اس وقت کے صدر میجر جنرل اسکندر مرزا کے نام ایک خط میں وہ کچھ اس طرح سے رقمطراز ہوتے ہیں، ’’جب غیر جانبدار مورخ ہمارے ملک کی تاریخ لکھیں گے تو آپ کا نام جناح(قائد اعظم محمد علی جناح) کے نام سے بھی پہلے لکھا جائیگا میں یہ بات اس لئے نہیں کہہ رہا ہوں کہ آپ میرے ملک کے صدر ہیں بلکہ میں واقعی یہی سمجھتا ہوں‘‘۔ اور 7 اکتوبر 1958 کو اسکندر مرزا نے مارشل لاء لگایا تو ذوالفقار علی بھٹو مارشل لائی کابینہ میں شامل تھے 20 دن بعد چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل ایوب خان نے صدر اسکندر مرزا کو جلا وطن کردیا، بھٹو جنرل ایوب خان سے بہت محبت کرتے تھے اور یہ انہیں ڈیڈی کہہ کر مخاطب کرتے تھے اور محبت یکطرفہ نہ تھی ایوب خان بھی بھٹو کی ذہانت اور انکی شخصیت کو بہت پسند کرتے تھے بھٹو نے ایوب خان کو ایشیاء کا ڈیگال اور صلاح الدین ایوبی ثانی قرار دیا تھا، جنرل ایوب خان نے 1962 میں کنونشن مسلم لیگ کے نام سے اپنی سیاسی پارٹی قائم کی تو ایوب خان صدر اور بھٹو مرکزی سیکریٹری جنرل بنے۔ اور 1965 میں فاطمہ جناح کے مقابلے میں ذوالفقار علی بھٹو ایوب خان کے کورنگ امیدوار بھی تھے اس دوران پاک بھارت جنگ ستمبر 65 ء کے بعد اس وقت کے سوویت یونین کی ریاست تاجکستان کے دارالحکومت تاشقند میں پاک بھارت امن مذاکرات کے نتیجے میں پاکستان اور بھارت کے درمیان 10 جنوری 1966 کو امن معاہدہ طے پاجاتا ہے جس پر صدر ایوب خان اور بھارتی وزیر اعظم لعل بہادر شاستری دستخط کرتے ہیں اور ذوالفقار علی بھٹو بھی مذاکرات میں وزیر خارجہ پاکستان کی حیثیت سے شریک تھے وہیں سے صدر ایوب خان اور نوجوان وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان اختلافات پیدا ہوجاتے ہیں اور بھٹو ایوب خان سے دور ہوکر اپنی سیاسی زندگی کا آزادانہ آغاز کرتے ہیں۔ اور یہ وہ دور تھا جب پاکستان سیاسی عدم استحکام کا شکار تھا اور سیاسی و عسکری قیادت کے درمیان اقتدار کی کشمکش عروج پر تھی اور پاکستان کے دو لخت ہونے کی بنیاد پڑ چکی تھی یہ الگ موضوع ہے کالم اسکی تفصیل کا متحمل نہیں ہوسکا۔ یہ پھر کبھی۔ مختصراً یہ کہ 1967 میں پاکستان پیپلز پارٹی قائم کرکے ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی آزادانہ سیاست کا آغاز کیا اور صرف تین سال کے مختصر عرصے میں ملک کے صدر، سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر اور بالآخر 1973 میں وزیر اعظم پاکستان بن گئے۔ اس کے بعد مارچ 1977 میں پاکستان پیپلز پارٹی کے جاری اقتدار کے درمیان وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے عام انتخابات کا اعلان کردیا جس کے نتیجے میں ایک بار پھر پاکستان پیپلز پارٹی کو اکثریت حاصل ہوگئی لیکن اس وقت کی اپوزیشن نے بدترین دھاندلی کا الزام لگا کر الیکشن کے نتائج کو تسلیم نہ کرتے ہوئے بھرپور احتجاجی تحریک کا آغاز کردیا اور دھاندلی کیخلاف یہ تحریک نفاذ نظام مصطفیٰ کی تحریک میں تبدیل ہوگئی ملک بھر میں ہنگامے پھوٹ پڑے اپوزیشن اور حکومت کے درمیان مذاکرات نتیجہ خیز ہونے سے قبل ہی آرمی چیف جنرل ضیاء الحق نے 5 جولائی 1977 ء کو ملک میں مارشل لاء کا نفاذ کرکے پاکستان کا نظم و نسق سنبھال لیا ۔ اسکے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت بیگم نصرت بھٹو نے پھر محترمہ بینظیر بھٹو نے سنبھالی اور بینظیر بھٹو نے 1986 سے اپنی عملی سیاسی جدوجہد کا آغاز کیا اور پہلی دفعہ 1988 ء میں عالم اسلام اور پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم ہونے کا اعزاز حاصل کرلیا اور دوسری مرتبہ 1996-1993 تک وزیر اعظم رہیں، دوسری جانب پنجاب میں میاں محمد نواز شریف 1983 میں اچانک بطور وزیر خزانہ وارد ہوتے ہیں اور 1985 میں وزیر اعلیٰ پنجاب اور 1992 میں وزیر اعظم بن کر سیاسی افق پر چھا جاتے ہیں اور دیکھنا یہ ہے کہ یہ بھی الیکٹڈ تھے یا سلیکٹڈ اور وہ کہاں سے الیکٹ یا سلیکٹ ہوکر آئے واقفان حال سب جانتے ہیں دسمبر 2007ء میں بینظیر بھٹو کی شہادت کے بعد محترمہ کی وصیت کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت انکے صاحبزادے بلاول بھٹو زرداری کے پاس آگئی اور محترم آصف علی زرداری نے شریک چیئرمین کی حیثیت سے بلاول بھٹو کی بلوغت تک قیادت سنبھالی اور اب ماشاء اللہ بلاول بھٹو چیئرمین کی حیثیت سے پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کررہے ہیں اور ملک کے ممکنہ وزیر اعظم بھی ہیں جبکہ انہوں نے اپنی بہن آصفہ بھٹو زرداری کو اپنا سیاسی جانشین بھی مقرر کردیا ہے۔ ع جمہوریت کے نام پر جمہور کا تماشہ ہے جاری باپ، بیٹی، داماد پھر نواسے حکمران ہوجاتے ہیں جبکہ دوسری جانب موجودہ وزیر اعظم عمران خان 1996 ء میں پاکستان تحریک انصاف کے نام سے اپنی سیاسی جماعت بنا کر سیاست کے سمندر میں غوطہ زن ہوئے اور 22 سال کی جدوجہد کے بعد 2018 ء کے عام انتخابات میں کامیاب ہوکر وزارت عظمیٰ پر متمکن ہیں اور ان ہی انتخابات کے ذریعے بلاول بھٹو زرداری کی پاکستان پیپلز پارٹی صوبہ سندھ میں حکومت کررہی ہے جو کہ منتخب یا الیکٹڈ ہے جبکہ وفاقی حکومت کے سربراہ وزیر اعظم عمران خان بوجوہ مخاصمت سیاسی سلیکٹڈ وزیر اعظم ٹہرائے گئے ہیں مطلب سب ہی شیشے کے گھر میں بیٹھ کر پتھر پھینک رہے ہیں۔ بقول شاعر ع اپنی بودوباش نہ پوچھو، ہم سب بے توقیر ہوئے کس کی ہے دستار سلامت ہم ہوئے، تم ہوئے،میر ہوئے