آج ہر انسان دنیا میں پیسے اور طاقت کو ہی سلام کرتا ہے۔ اچھا انسان بھی اسی کو سمجھا جاتا ہے جس کے پاس پیسہ اور طاقت ہو، اور تہذیب و تربیت بھی وہی ٹھیک سمجھی جاتی ہے جو کسی امیر اور طاقتور شخص دیتا ہے۔ اچھے انسان کی خصوصیات کو امیر اور پیسے کے ترازو میں تولا جاتا ہے۔
آج کی دنیا میں جو انسان امیر یا طاقتور نہیں ہوتا، اسے بیوقوف یا پاگل سمجھا جاتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اب صرف انسانیت کی باتیں کرنے والے لوگ فیس بک اور سوشل میڈیا پر نظر آتے ہیں، جنہیں لوگ پسند تو کرتے ہیں لیکن ان پر عمل نہیں کرنا چاہتے۔
ہر کسی کو دوسرے کی تنقید کرنا بہت اچھا لگتا ہے اور مفت مشورے سبھی دیتے ہیں، جن پر خود کبھی عمل نہیں کرتے۔ خیرات بھی آج لوگ اپنی بڑائی دکھانے کے لیے کرتے ہیں جبکہ خیرات دینے کا اصل حکم یہ ہے کہ سیدھے ہاتھ سے دیں اور الٹے ہاتھ کو پتا نہ چلے۔ مگر خود نمائی کا شوق آج اپنے عروج پر ہے۔
اس نفسا نفسی کے دور میں ہر شخص صرف اپنے بارے میں سوچ رہا ہے۔آج ماں باپ بھی اپنے بچوں کو صرف پیسے کمانے کے لیے تعلیم دلا رہے ہیں۔
تعلیم کا مقصد صرف مالی فائدہ حاصل کرنا بن گیا ہے اور اسی تعلیم کو استعمال کرکے دنیا بھر میں تباہی ہو رہی ہے۔ آج جتنا نقصان تعلیم یافتہ انسان پہنچا رہا ہے، شائد ہی کبھی کسی جاہل نے پہنچایا ہو۔
ہر تعلیم یافتہ شخص کا مقصد مالی طور پر خود کو مضبوط کرنا ہے، جبکہ تعلیم کا اصل مقصد دنیا میں بہتری لانا تھا اور ہے۔ تعلیم کا مقصد اچھے اور برے کی پہچان رکھنا ہے۔
اگر ہم انٹیلی جنس کی بات کریں، تو انٹیلیجنٹ انسان وہ ہے جس کو اچھے اور برے کی پہچان ہو اور درست فیصلے کر سکے۔
ہر انسان دعویٰ تو کرتا ہے کہ اس کے فیصلے درست ہیں، لیکن وہ فیصلے صرف خود کے لیے درست ہوتے ہیں، دوسروں کے لیے نہیں۔ معاشرے میں تبدیلیاں تو بہت جلدی آرہی ہیں لیکن اس نفسا نفسی کے دور میں ہر شخص پریشان نظر آ رہا ہے۔
غریب ہو یا امیر، ہر انسان اسٹریس کا شکار ہے کیونکہ وہ ایک ریس میں دوڑ رہا ہے جو موت تک ختم نہیں ہوتی۔
آج جتنے بھی امیر لوگوں کی زندگیوں کو دیکھیں، وہ کروڑوں روپے کے اثاثے رکھنے کے باوجود پریشان نظر آتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟
اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کا دل کبھی مطمئن نہیں ہوتا۔
ایک زمانے میں جب لوگوں کے پاس سکون ہوا کرتا تھا، بچوں کو تعلیم و تربیت دی جاتی تھی، اچھائی اور نیکی و برائی میں فرق بتایا جاتا تھا۔
منافق لوگ کم تھے، آج پیسے اور طاقت حاصل کرنے کے لیے سکھایا جاتا ہے کہ منافق بن جاؤ، لوگوں کی تعریفیں کرو، جھوٹے انسان کا ساتھ دو تاکہ وہ تمہیں فائدہ دے سکے۔
ظاہر ہے دنیا کی ہر چیز حاصل کرنے کے لیے ہر شخص دوڑ رہا ہے، اور اسی وجہ سے اس کی اہمیت بڑھتی جارہی ہے۔ آج اگر ہم اس نظام کو نہیں بدلیں گے، تو آنے والے دنوں میں ہم ایک دوسرے کو بیچیں گے، اور وہ غلامی کا دور دوبارہ شروع ہو جائے گا جو ہزاروں سال پہلے ختم ہوا تھا۔
لوگ آج بھی نہیں سمجھ رہے کہ تمام ادیان میں بتایا جاتا ہے کہ دنیا عارضی ہے۔ اپنے لیے اور اپنے بچوں کے لیے نیکیاں کریں، دنیا کو خوبصورت بنائیں، لوگوں کے لیے روزگار کا ذریعہ بنیں، اور مسکرانے کی وجہ بنیں۔ اگر ایک روٹی ہے تو اسے بانٹ کر کھائیں۔
بچوں کو آزاد کریں تاکہ ان کی سوچ میں صرف پیسہ اور طاقت نہ آئیں۔ بچوں کو ان کی صلاحیت کے مطابق کام کرنے دیں۔ کسی بھی شعبے کو کم نہ سمجھیں کیونکہ ہر شعبے میں انسان اپنی عزت، احترام اور مالی استحکام حاصل کر سکتا ہے۔
بچوں کو وہ تعلیم دیں جس سے وہ سب سے پہلے انسانیت کے لیے کام کریں۔
آج اگر ہم انسانیت، تعلیم اور تربیت کو بھول گئے ہیں، تو اس کی وجہ اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے مالکان ہیں جو صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا دیتے ہیں جسے لوگ ڈگری کہتے ہیں اور جو اسے حاصل نہیں کرتے، انہیں جاہل سمجھا جاتا ہے جبکہ یہ ڈگری حاصل کرنے والے اکثر پڑھے لکھے جاہل ثابت ہوتے ہیں۔
آج معاشرے میں اچھے ڈاکٹرز، انجینئرز اور بزنس مین موجود ہیں، لیکن اچھے انسان نہیں۔ ہر شعبے میں صرف پیسے کو اہمیت دی جاتی ہے۔ اب وہ دور آ گیا ہے کہ بچے اپنے والدین کو گھروں سے باہر نکال کر اولڈ ہومز میں ڈال رہے ہیں اور پھر والدین کہتے ہیں کہ ہمارے بچے بہت ظالم ہیں۔
والدین کو سوچنا چاہیے کہ بچوں کو ظالم بننے کی تربیت کس نے دی؟ پیسے کا لالچ کس نے سکھایا؟ جائیدادیں بنانے کا خواب کس نے دکھایا؟ کاش والدین نے اپنے بچوں کو محبت، انسانیت اور ہر حال میں خوش رہنا سکھایا ہوتا تو آج بچے والدین کو بوجھ نہ لگتے۔
ابھی بھی وقت ہے کہ بچوں کو صحیح تعلیم و تربیت دی جائے، اور نظام کو بدلا جائے، ورنہ یہ نظام آپ اور آپ کے ملک کو نگل جائے گا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں