کورونا کی وجہ سے بند ریلوے سروس بحال کرنے پرغور شروع

تازہ ترین

تازہ ترین

Pakistan Railways gets first woman Station Manager

لاہور : کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے بند کی گئی ریلوے سروس بحال کرنے کے لیے اقدامات شروع ہو گئے، کورونا وائرس کے حفاظتی اصولوں کو مد نظر رکھ کر ٹرینوں کی آمد و روانگی کا اصولی فیصلہ کر لیا گیا۔

وزارت ریلوے میں وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کی صدارت میں وڈیو لنک کے ذریعے ریلوے آپریشنز پر اہم اجلاس میں کئے گئے بعض اہم فیصلےکیے گئے۔

اجلاس میں چیئرمین ریلوے بورڈ حبیب الرحمان گیلانی اور سی ای او ریلوے دوست علی لغاری سمیت تمام متعلقہ افسران نے وڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔

وفاقی حکومت کی طرف سے لاک ڈاؤن ختم ہونے کی صورت میں ریلوے کا ممکنہ لائحہ عمل تیار کر لیا گیا ،لاک ڈاؤن ختم یا اس میں نرمی کا فیصلہ وفاقی حکومت کرے گی۔

لاک ڈاؤن ختم یا نرمی کی صورت میں وفاقی حکومت کی منظوری کے بعد چاروں صوبوں میں اپ اینڈ ڈاؤن کی24 ٹرینیں چلائی جائیں گی۔ٹرینیں چلانے کا مقصد لاک ڈاؤن کے بعد تمام ممکن احتیاطی تدابیر کے ساتھ چاروں صوبوں کے عوام کا رابطہ بحال کرنا ہے۔

ٹرین آپریشن شروع ہونے کے بعد خصوصی ٹرینوں کے چلنے کے دوران مسافروں اور عملے کے لیے ہدایات پر عمل لازم ہوگا۔ کوتاہی کی صورت میں پاکستان ریلوے قانون کے تحت سخت ایکشن لے گا۔ممکنہ طور پر لاک ڈاؤن کے بعد بھی ریزرویشن دفاتر بند رہیں گے۔

ٹرین آپریشن شروع ہونے کی صورت میں مسافر اپنی ٹکٹ صرف آن لائن بکنگ کے ذریعے ہی حاصل کر سکیں گے،ٹرین کی 60 فیصد سیٹیں بک ہونے کے بعد بکنگ روک دی جائے گی تاکہ سماجی فاصلہ پالیسی پر سختی سے عمل کیا جا سکے۔

خصوصی ٹرینوں کی بکنگ روانگی سے 24 گھنٹے پہلے بند کر دی جائے گی۔خصوصی ٹرینیں چلنے کی صورت میں مسافروں کو ٹرین کی روانگی سے 1 گھنٹہ قبل اسٹیشن پہنچنا ہوگا۔

ریلوے سٹیشن سے 200 میٹر تک ایریا غیر ضروری افراد کے داخلے کے لیے بند کر دیا جائے گا۔مسافروں کے پاس اپنے ماسک، گلوز، سینیٹائزر اور صابن ہونا لازم ہے۔

مسافروں کو سینیٹائزر واک تھرو گیٹ سے گزارا جائے گا، جس میں ان پر اسٹیشن میں داخلے سے قبل سینیٹائزر سپرے کیا جائے گا۔

پاکستان ریلوے یہ خصوصی گیٹ اپنی فیکٹریوں میں تیار کر ریا ہے اور اسی ہفتے 40 گیٹ پورے ریلوے سسٹم پر مختلف جگہ نصب کر دئیے جائیں گے۔

مزید پڑھیں:مجھے حکومت نے لاک ڈاؤن پر اعتماد میں نہیں لیا۔وزیرِ ریلوے شیخ رشید کا بیان

خصوصی ٹرینیں چلنے کی صورت میں مسافروں کو ٹرین میں دوسرے مسافروں سے میل جول کی اجازت نہیں ہوگی۔

ریلوے افسران ان خصوصی ٹرینوں میں مسافروں کے ساتھ سفر کریں گے تاکہ ہدایات پر سختی سے عمل کرایا جاسکے۔

پاکستان ریلوے ٹرینیں چلانے سے قبل تفصیلی ہدایت نامہ میڈیا اور اخبارات اور اپنی ویب سائٹ پر شائع کرے گا۔خصوصی ٹرین آپریشن چلانے کا حتمی فیصلہ وفاقی حکومت کی منظوری کے بعد کیا جائے گا۔

Related Posts