پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ہر دلعزیز مشروب چائے کا عالمی دن منایا جارہا ہے جبکہ دنیا بھر میں چائے کے علاوہ دیگر مشروبات بھی نوشِ جاں کیے جاتے ہیں جن میں کافی، سافٹ ڈرنکس اور دودھ شامل ہیں، تاہم وہ اہمیت آج تک کسی اور مشروب کو حاصل نہ ہوسکی جو چائے کو حاصل ہے۔
کھانا کھائے بغیر انسان تقریباً ایک ہفتے تک زندہ رہ سکتا ہے، تاہم پانی کے بغیر کسی انسان کے 3 سے زیادہ دن زندہ رہنے کی کوئی روایت دستیاب نہیں۔ سب سے زیادہ انسان جو چیز پیتا ہے، وہ کوئی مشروب نہیں، بلکہ پانی ہے لیکن اگر پانی کے بعد سب سے زیادہ کوئی چیز پی جاتی ہے تو وہ چائے ہے۔
چائے کی تاریخ
چائے کی پتی اور دودھ کو ملا کر بنائی جانے والی چائے دودھ کے بغیر بھی متعدد ممالک میں شوق سے پی جاتی ہے۔ بعض روایات کے مطابق چائے سب سے پہلے شمال مشرقی بھارت، شمالی میانمار اور جنوب مغربی چین سے چائے کے مشروب کا آغاز ہوا۔
انسان کب سے چائے پی رہے ہیں، اس پر مختلف آراء پائی جاتی ہیں، تاہم اقوامِ متحدہ کے مطابق چین میں 5 ہزار سال قبل چائے کو بطور مشروب استعمال کیے جانے کے ناقابلِ تردید آثار موجود ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ انسان نے چائے تک رسائی بہت پہلے حاصل کر لی تھی۔
چائے کی صنعت
ترقی پذیر ممالک میں چائے بنانا اور پلانا ایک اہم صنعت کا درجہ اختیار کر گیا ہے جس پر لاکھوں خاندان انحصار کرتے ہیں۔ بہت سے غریب خاندان متمول افراد کو چائے پلا کر خاطر خواہ آمدنی حاصل کرتے ہیں جن کی رہائش غریب اور پسماندہ ممالک میں ہے۔
چائے کی صنعت بہت سے غریب ممالک کیلئے زرِ مبادلہ کا اہم ذریعہ ہے کیونکہ ایسے ممالک چائے کے پودے سے حاصل ہونے والی پتی کو برآمد کرکے کروڑوں کماتے ہیں۔بہت سے پسماندہ علاقوں میں چائے خانے کھولنےکا کام ایک منافع بخش کاروبار کی حیثیت اختیار کرچکا ہے۔
چائے کے صحت پر اثرات
عالمی ادارۂ صحت کے مطابق چائے اینٹی آکسیڈنٹ ہے جو وزن کم کرنے میں مدد دیتی ہے اور بہت سے معاشرے چائے کو اپنی ثقافتی اقدار کا اہم جزو مانتے ہیں۔ گھر پر جو بھی مہمان آئے اسے چائے ضرور پیش کی جاتی ہے جس کے خود مہمان بھی منتظر رہتے ہیں۔
آپ شدید سردی سے پریشان ہوں یا دن بھر کی تھکان، چائے کے 2 گھونٹ آپ کے مسائل حل کرنے کے لیے اکثر کافی ہوتے ہیں۔ لوگ تھکاوٹ کم کرنے اور ذہن کو ہشاش بشاش رکھنے کے لیے بھی چائے کا استعمال کرتے ہیں۔
چائے کے طبی فوائد میں آنکھوں کے بڑے امراض (مثلاً نابینا اور کالے موتیا یعنی گلوکوما) سے بچاؤ شامل ہے، تاہم بعض ماہرین کے مطابق چائے میں نکوٹین موجود ہوتی ہے جو انسانی دماغ کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔
چائے کا عالمی دن
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے گزشتہ برس 19 دسمبر کے روز دنیا بھر میں چائے کی بڑھتی ہوئی ضروریات اور پسماندہ ممالک کی طرف سے چائے کی صنعت کو فروغ دینے کے لیے مطالبات دیکھتے ہوئے فیصلہ کیا کہ ہر سال 21 مئی کو چائے کا عالمی دن منایا جائے۔
چائے کا عالمی دن منانے کا مقصد بھوک اور غربت سے لڑنے کیلئے پسماندہ ممالک میں فروغ پاتی ہوئی چائے کی صنعت کو فروغ دینے کے لیے اقوامِ عالم کی حوصلہ افزائی کرنا ہے جس کے تحت ہر سال مختلف تقاریب کے ذریعے عوام الناس میں شعور اجاگر کیاجاتا ہے۔
عالمی دن منانے کا مقصد یہ بھی ہے کہ دنیا بھر میں تیزی سے بڑھتی ہوئی غربت کو کم کیاجائے اور بھوک سے لڑنے کے لیے عوام میں آگہی کو فروغ دیا جائے جبکہ خواتین کی خودمختاری اور فطرت سے قربت کیلئے ماحولیاتی شعور اجاگر کرنا بھی اس دن کے مقاصد ہیں۔
عالمی ادارے (اقوامِ متحدہ) کے مطابق چائے کے حوالے سے عوام میں شعور اجاگر کرنا ضروری ہے تاکہ وہ دیہی ترقیاتی منصوبوں اور غریب اور پسماندہ افراد کے ذرائع آمدن کے حوالے سے چائے کو فروغ دیتے ہوئے غریبوں کی مدد کرسکیں۔
چائے اور ماحولیاتی تبدیلی
اقوامِ متحدہ کے مطابق چائے کی پیداوار کیلئے فطری تقاضوں کے مطابق زرعی افعال سرانجام دئیے جاتے ہیں۔ چائے صرف ایسے ہی علاقوں میں یدا ہوتی ہے جہاں اس کے مخصوص فطری تقاضے پورے ہوتے ہیں، نتیجتاً یہ بہت کم ممالک میں پیدا ہوتی ہے۔
موسم کی تیزی سے تبدیلی، گرین ہاؤسنگ اور بڑھتی ہوئی فضائی و ماحولیاتی آلودگی ماحول میں عجیب و غریب تبدیلیاں پیدا کر رہی ہے جس سے چائے پیدا کرنے والے ممالک بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہیں گے جس سے چائے کی پیداوار وقت کے ساتھ ساتھ کم ہوسکتی ہے۔
پہلے ہی درجۂ حرارت، بارش کی کمی بیشی اور سیلاب جیسے عوامل چائے سمیت خوراک کی دیگر فصلوں کی پیداوار کو متاثر کر رہے ہیں جس سے چائے کا معیار، قیمتیں اور دیہی علاقوں کے ذرائع آمدن کم ہو رہے ہیں۔ یہ ماحولیاتی تبدیلیاں وقت کے ساتھ ساتھ بڑھیں گی۔
چائے کا عالمی دن منانے کا اہم مقصد یہ ہے کہ تیزی سے بڑھتی ہوئی ماحولیاتی تبدیلیوں پر اقوامِ عالم کو بیدار کیا جائے۔ یہ ماحولیاتی تبدیلیاں چائے سمیت خوراک، پھل اور سبزیوں کی دیگر فصلوں کو بری طرح متاثر کر رہی ہیں اور ان کا معیار اور مقدار دونوں کم ہورہے ہیں۔
چائے کے عالمی دن کا اہم پیغام
بنیادی طور پر چائے ایک عام مشروب ہے جسے اقوامِ متحدہ نے غریب اور پسماندہ ممالک کی معیشت اور دیہی ترقی سے جوڑ کر چائے کی صنعت کو فروغ دینے کیلئے عالمی دن منانے کا فیصلہ کیا۔ یہ عالمی دن ہمیں ایک اہم پیغام دیتا ہے کہ عالمی برادری ماحولیاتی تبدیلی اور غربت کے خلاف ایک ہوجائے۔
بدقسمتی سے غربت اور ماحولیاتی تبدیلی دونوں ہی وقت کے ساتھ ساتھ بڑھ رہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اقوامِ عالم صنعتی ترقی کی چکاچوند سے باہر نکل کر فطری مسائل کو سمجھیں اور چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے غریب عوام اور عالمِ انسانیت کے مسائل کا احساس کیا جائے۔